جج کو اسٹریس لینا نہیں اسٹریس دینا چاہیے‘‘لاہور ہائیکورٹ جسٹس جواد حسن کا خطاب
لاہور ہائیکورٹ کے جج کا بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے کہا ہے کہ جج کو اسٹریس لینا نہیں، بلکہ اسٹریس دینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس سے 5 جعلی مقدمے، بچیوں اور عورت اغوا کرانا کہاں کا انصاف ہے؟ جسٹس محسن کیانی
عدالتی فیصلوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس
لاہور جوڈیشل اکیڈمی میں عدالتی فیصلوں کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال کے موضوع پر تقریب ہوئی، جس میں جسٹس جواد حسن نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سب سے مشکل کیس کیے، مجھے کبھی اسٹریس نہیں ہوا، اور بہت سے سیاسی کیس بھی آئے مگر میں ہمیشہ مستحکم رہا۔
یہ بھی پڑھیں: ہر 2 دن بعد متعدد پیشیوں کے باوجود جج صاحب ہمیں گرفتار کروانا چاہتے ہیں، تو شوق پورا کرلیں، ایڈووکیٹ ایمان مزاری
ججز کی کارکردگی اور کورسز کی اہمیت
جسٹس جواد کا کہنا تھا کہ جج کو اسٹریس لینا نہیں، بلکہ اسٹریس دینا چاہیے۔ جج کو کورٹ ہینڈلنگ اور اس کے فیصلوں سے پرکھا جاتا ہے، لہذا تمام کورسز نئے آنے والے ججز کے لیے بہت ضروری ہیں۔
عدالتوں میں کیسز کا جائزہ
انہوں نے مزید کہا کہ عدالتوں میں 60 فیصد کیسز غلط آتے ہیں، اور ہمیں وہ کورسز کرنے کی ضرورت ہے جو دنیا میں کیے جا رہے ہیں۔ ہر ہائیکورٹ میں 30 سے 40 فیصد فیملی کیسز آتے ہیں، اور ہر جج پہلی سماعت پر کیس خارج کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔








