اسرائیلی وزیرِاعظم نے کرپشن مقدمات میں صدارتی معافی کی باضابطہ درخواست جمع کرا دی
نیتن یاہو کی صدارتی معافی کی درخواست
تل ابیب (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے خلاف جاری کرپشن مقدمات میں صدارتی معافی کی باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے۔ اتوار کو جاری کیے گئے اپنے ویڈیو بیان میں نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ چھ برس سے جاری مقدمات ملک کو اندر سے چیر رہے ہیں اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم نے آبی ذخائر کی تعمیر کی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا، جلد اہم اجلاس بلانے کا فیصلہ، ورکنگ پیپر صوبائی حکومتوں سے شیئر کیا جائے گا
مقدمات اور ملکی صورتحال
انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ مقدمے کو آخر تک لے جا کر خود کو بےگناہ ثابت کریں، لیکن موجودہ سکیورٹی اور سیاسی صورتحال اس کی اجازت نہیں دیتی۔ ان کے بقول، "اسرائیل اس وقت بہت بڑے چیلنجز سے گزر رہا ہے، اور مقدمے کا جاری رہنا قوم میں مزید تقسیم اور انتشار پیدا کر رہا ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: ہمسائے کیا سوچیں گے
اسرائیلی معاشرہ دو حصوں میں بٹا ہوا
خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اس معاملے نے اسرائیلی معاشرے کو واضح طور پر دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو نیتن یاہو کو بےقصور سمجھتے ہیں اور مقدمات کو سیاسی دشمنی قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری جانب ان کے مخالفین ہیں جو ان پر سنگین کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مقتول ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے دوستوں کا بیان بھی سامنے آگیا۔
امریکی صدر کی مداخلت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی رواں ماہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کو خط لکھ کر نیتن یاہو کو معافی دینے کی اپیل کی تھی۔
نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ پر الزامات
نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ سارا پر الزام ہے کہ انہوں نے ارب پتی افراد سے قیمتی تحائف، جن میں سگار، زیورات اور مہنگی شراب شامل تھیں، سیاسی فوائد کے بدلے وصول کیے۔ اس کے علاوہ دو دیگر مقدمات میں ان پر اسرائیلی میڈیا ہاؤسز سے اپنے حق میں بہتر کوریج کا سودا کرنے کی کوشش کا الزام بھی ہے۔








