آئی ایم ایف کو پیٹرولیم مصنوعات پر 5 روپے اضافی کاربن لیوی عائد کرنے کی یقین دہانی
عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدہ
اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت 13 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا دی۔ پیٹرول اور ڈیزل پر 5 روپے اضافی کاربن لیوی کا نفاذ بھی شرائط میں شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: شہریوں سے صفائی کا بل لینے کے لیے نیا طریقہ کار طے
اہم اہداف کا تعین
دستاویز کے مطابق 1.3 ارب ڈالر کے آر ایس ایف پروگرام کے تحت 2027 تک کے اہم اہداف مقرر کردیے گئے۔ پاکستان قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ڈیزاسٹر رسک فنانسنگ کو مضبوط کرے گا۔ تمام بڑے ترقیاتی منصوبوں میں موسمیاتی اثرات کا جائزہ لینا لازمی ہوگا۔ ساڑھے 7 ارب روپے سے زائد لاگت کے ہر منصوبے میں کلائمیٹ امپیکٹ اسیسمنٹ لازم قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نائجیریا کے شمال مشرق میں شدت پسندوں کا خونریز حملہ، 7 فوجیوں سمیت 60 سے زائد افراد ہلاک
انفرااسٹرکچر میں موسمیاتی اقدامات
انفرااسٹرکچر منصوبوں میں کم از کم 30 فیصد اخراجات موسمیاتی اقدامات پر خرچ ہوں گے۔ وفاق اور صوبوں میں کلائمیٹ بجٹنگ سسٹم نافذ کیا جائے گا اور ہر سال کلائمیٹ بجٹ رپورٹ جاری کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عوام کی خوشیاں لوٹانے آئی ہوں، 6 فروری کی رات بسنت فیسٹیول کی لانچنگ، 7 فروری کو باقاعدہ آغاز ہوگا: وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس، اہم فیصلے
کاربن لیوی اور بجلی سبسڈی
پیٹرول اور ڈیزل پر 5 روپے اضافی کاربن لیوی کا نفاذ بھی شرائط میں شامل ہے، الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے کیلئے سبسڈی دی جائے گی، 2030 تک 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی جبکہ 50 فیصد موٹر سائیکلیں بھی الیکٹرک کرنے کا ہدف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ کیساتھ مسائل کو خود حل کرناہے، میرے پاس اختیار نہیں، علی امینگنڈاپور
بجلی کی سبسڈی کی ترمیم
وزارت خزانہ کے مطابق بجلی سبسڈی صرف مستحق صارفین تک محدود کی جائے گی، امیر صارفین کیلئے بجلی سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ آئی ایم ایف کو لائن لاسز اور بجلی چوری میں کمی لانے کی بھی یقین دہانی کرادی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے 20 سب سے زیادہ پسماندہ اضلاع کی فہرست جاری
توانائی کے موثر استعمال کے اقدامات
دستاویز کے مطابق ریفریجریٹرز، پنکھے، ایل ای ڈیز، موٹرز اور اے سی کیلئے توانائی لیبل لازمی ہوگا۔ جون 2027 تک بجلی بچانے والے آلات کی فروخت کو فروغ دیا جائے گا، آئندہ ترقیاتی منصوبوں میں موسمیاتی اثرات جانچنا لازم ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں چینی قافلے پر حملے کی ‘ماسٹر مائنڈ اور سہولت کار’ خاتون کی گرفتاری
پانی کے مؤثر استعمال کیلئے اقدامات
سندھ، خیبر پختوانخوا، بلوچستان میں پانی کے مؤثر استعمال کیلئے سروس چارجز وصول کرنے کا پلان ہے، صوبوں میں آبپاشی نظام سے آمدن بڑھانے کا منصوبہ ہے۔ سندھ اور پنجاب میں پانی کے نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ کا نیا نظام لایا جائے گا۔
مالی منصوبہ بندی اور رپورٹنگ
دستاویز کے مطابق ہر سال کلائمیٹ بجٹ رپورٹ جاری کی جائے گی، موسمیاتی آفات کیلئے وفاق اور صوبوں میں بہتر مالی منصوبہ بندی کی جائے گی، بینکوں کیلئے موسمیاتی مالیاتی خطرات کا جائزہ لازمی ہوگا۔








