سوشل میڈیا انفلوئنسر کے حوالے سے این سی سی آئی اے کا کرپشن اسکینڈل، 4 افسران کے استعفے منظور کر لئے گئے
کرپشن اسکینڈل میں اہم پیش رفت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سوشل میڈیا انفلوئنسر کے حوالے سے نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی کے کرپشن اسکینڈل میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ وفاقی سیکریٹری داخلہ نے ڈپٹی ڈائریکٹر سمیت 4 افسران کے استفعے منظور کرلیے ہیں اور مذکورہ استعفے 20 نومبر سے منظور کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہمارے لیجنڈز دادا، دادا کرتے رہے، سورو گنگولی نے پاکستان کے بارے میں ایسا بیان دے دیا کہ اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا
مستعفی افسران کی تفصیلات
ایکسپریس نیوز کے مطابق مستعفی ہونے والے این سی سی آئی اے کے افسران میں ڈپٹی ڈائریکٹر سرفراز چوہدری، اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد عثمان، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسما مجید شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل کے قریب علیمہ خان کا دھرنا جاری، پولیس نے ممکنہ آپریشن کے لئے تیاریاں مکمل کر لیں
رشوت لینے کے معاملے کی تفصیلات
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ڈکی بھائی سمیت دیگر سوشل میڈیا انفلوئنسز سے رشوت لینے کے معاملے پر این سی سی آئی اے کے متعدد افسران کو گرفتار کیا گیا، جنہوں نے بعد میں استعفیٰ دے دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانیوں کے لیے خوشخبری، ملائیشین ایئرلائن نے ٹکٹ کی تعارفی قیمت مقرر کردی گئی
اینٹی کرپشن کی کارروائی
اس سے قبل اینٹی کرپشن سرکل لاہور نے این سی سی آئی اے کے 8 افسران کے خلاف کرپشن کے مقدمات درج کرائے تھے۔
گرفتار افسران کی تفصیلات
این سی سی آئی اے کے گرفتار 8 میں سے 7 افسران میں ایڈیشنل ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز اور سب انسپکٹرز شامل تھے اور ان کے خلاف مقدمات درج کرائے گئے تھے۔








