مجھے بچپن میں کئی سال تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، معروف اداکار عدیل ہاشمی کا انکشاف
معروف اداکار عدیل ہاشمی کا تکلیف دہ تجربہ
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف اداکار عدیل ہاشمی نے اپنے بچپن کے ایک نہایت تکلیف دہ تجربے پر پہلی بار کھل کر بات کرتے ہوئے ایک اہم سماجی مسئلے کی جانب توجہ دلائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملتانی مٹی کی نہیں ممدانی کی کہانی۔۔۔ لیڈر اُجلا ہو اور عوام پیچھے ہوں تو ہر دیوار گر جاتی ہے۔۔۔ ستمبر ستمگر ہوا کرتا تھا، ہم نے نومبر میں میدان سجا لیا
جنسی زیادتی کا سامنا
عدیل ہاشمی نے انکشاف کیا کہ جب میں ساتویں جماعت میں تھا تو مجھے اپنے ہی سکول میں اپنے سے بڑے لڑکوں کی جانب سے جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا مگر اس دوران میں کسی کو بھی یہ بات بتانے کی ہمت نہ کر سکا، اُس وقت خاموشی میری مجبوری بن گئی تھی کیونکہ مجھے نہ یہ معلوم تھا کہ اس بارے میں کس سے بات کرنی ہے اور نہ ہی یہ سکھایا گیا تھا کہ ایسے معاملات میں آواز کیسے اٹھائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مرغی کے گوشت کو پر لگ گئے، قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں
والد کی تربیت اور تجربات
عدیل ہاشمی نے کہا کہ اگرچہ میرے والد نے مجھے زندگی میں بہت کچھ دیا، مگر ہراسانی یا بدسلوکی جیسے موضوعات پر بات کرنے کی تربیت نہیں دی گئی، جس کے باعث میں اس تجربے کو اپنے اندر ہی دفن کیے رہا۔ اداکار کے مطابق والد بننے کے بعد میرا اس موضوع پر نقطۂ نظر بدل گیا ہے، جب میرے بیٹے نے سکول جانا شروع کیا تو میں نے ابتدا ہی سے اس کے ساتھ اس حوالے سے گفتگو کا دروازہ کھلا رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کوئٹہ پہنچ گئے، امن و امان سے متعلق خصوصی جرگہ میں شرکت کریں گے
بچوں کو آواز دینے کی اہمیت
عدیل ہاشمی نے کہا کہ جب میرا بیٹا سکول جانے لگا تو میں نے اس سے پوچھا کہ کیا کوئی بچہ یا کوئی بڑا بچہ اسے تنگ کرتا ہے؟ اس نے کہا نہیں، تو میں نے اسے واضح طور پر کہا کہ جب کبھی ایسا ہو، مجھے ضرور بتانا۔ عدیل ہاشمی نے زور دیا کہ بچوں کو بولنا سکھانا صرف اس وقت ضروری نہیں جب کوئی واقعہ ہو جائے، بلکہ یہ احساس دینا بھی بے حد اہم ہے کہ کوئی ہے جو ان کی بات سنے گا، یہی احساس بچوں کے اعتماد کو بڑھاتا ہے اور تنہائی کے احساس کو کم کرتا ہے۔
ماضی کی یادیں اور شکر گزاری
اپنے ماضی پر بات کرتے ہوئے عدیل ہاشمی نے کہا کہ جب لوگ مجھ سے میرے بچپن کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو میں شکر گزار ہوتا ہوں کہ وہ وقت گزر چکا ہے، اگرچہ یادیں آج بھی مشکل ہیں، مگر میں انہیں اپنی زندگی کا ایک بند باب سمجھتا ہوں۔








