عمران خان کی زندگی کا مختصر قصہ: اقتدار اور دولت کا لالچ، وفا یا نظریہ یا کمٹمنٹ یا انسانی رشتے، کس شے پہ یقین نہیں رکھتے، خواجہ محمد آصف
اسلام آباد کا تناظر
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ عمران خان نے آغاز نواز شریف سے کیا۔ اپنی ذات کے لئے اور شوکت خانم ہسپتال کے لئے پلاٹ لئے، افتتاح کروائے۔ نواز شریف نے جیب سے کئی کروڑ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں 15 سالہ بچی کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزمان گرفتار
جنرل مشرف کے دور میں عمران خان کا کردار
پھر باری آگئی جنرل مشرف کی۔ اس کے ریفرنڈم کا سب سے بڑا سپورٹر عمران خان تھا۔ اس سے 100 قومی اسمبلی کی بھیک مانگتا رہا۔ اس نے ایک سیٹ دی۔
یہ بھی پڑھیں: مراد سعید میری ہدایت پر ہی انڈرگراؤنڈ ہے، قیاس آرائیاں بند کی جائیں : عمران خان
جمہوری سفر
پھر عمران خان جمہوری ہو گیا۔ میثاق جمہوریت جس کے خالق PPP اور PML-N تھے، اس پہ دستخط کیے۔ لیکن جمہوریت سے مایوس ہو کر ایک دفعہ پھر غیر جمہوری ہو گیا اور انٹیلی جنس اداروں نے اسے گود لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: قربانی دیجیے ایک چپڑاسی، کم تنخواہ پانے والا شخص کبھی امتحان میں فیل نہ ہوا، ہمیشہ گرا سکہ یا نوٹ میری نظر کیا کہ آپ کا ہی ہوسکتا ہے۔ کہاں ڈھونڈیں ایسے لوگ؟
دھرنوں کی سیاست
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے لکھا کہ 2013 کے الیکشن کے بعد عمران خان نے اپنے سرپرستوں کے کہنے پر دھرنوں کی سیاست شروع کی اور نواز شریف کے خلاف سازشوں کے مرکزی بینیفشری بن گئے۔ نواز شریف جب ان سازشوں کے شکار ہوئے تو 2018 کے انتخابات میں اسٹیبلیشمنٹ نے ان کے سر پہ ہاتھ رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت
اقتدار کا سفر
پھر باجوہ و فیض کی سرپرستی میں انہوں نے حکومت بھی کی اور لوٹ مار سے بھی دریغ نہ کیا۔ اقتدار اور دولت سمیٹنے کے لالچ میں عمران خان اسٹیبلیشمنٹ کے لئے بوجھ بن گئے، وہ عوام سے کیا کوئی وعدہ پورا نہ کر سکے اور اسمبلی میں اکثریت کھو بیٹھے۔ عدم اعتماد کی تحریک کا شکار بنے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر مملکت یا اس کی توانائی کی تنصیبات پر حملے جاری رہے تو ریاض جوابی کارروائی کرے گا، سعودی عرب نے پہلی بار ایران کو جوابی حملےکی دھمکی دیدی۔
اقتدار سے جدائی کا صدمہ
اقتدار سے جدائی کے صدمے نے انہیں کبھی امریکا مخالف بیانیہ اور کبھی اقتدار کی واپسی کے لئے باجوہ کو تمام عمر کی ایکسٹنشن کی آفر کرنے پر مجبور کر دیا۔ پھر 9 مئی کے واقعات کے دوران اقتدار کی جدائی میں انہوں نے وہ تمام حدود پار کر دیں جو تاریخ میں نہیں ملتی۔
یہ بھی پڑھیں: گرین پارک سٹیڈیم سے بہت سی باتیں جڑی ہیں، ہم کانپوریئے خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے، روی شاستری نے”بوم بوم آفریدی“ پکار کر داد دی
سیاسی صورتحال
اب بھی وہ آج سیاسی برادری سے مذاکرات پر تیار نہیں، جبکہ اسٹیبلیشمنٹ سے رشتہ جوڑنے کے لئے آج بھی تیار ہیں۔ لیکن ایک طرف سوشل میڈیا پر گالیاں اور دوسری طرف منت ترلا۔ عمران خان نے اتنے زندگی میں بھیس بدلے ہیں کہ آج اس کی کوئی پہچان یا شناخت باقی نہیں رہی۔
خواجہ محمد آصف کی رائے
خواجہ محمد آصف نے مزید لکھا: "قصہ مختصر، عمران خان کی زندگی کا ٹریڈ مارک اقتدار اور دولت کا لالچ ہے، وفا یا نظریہ یا کمٹمنٹ یا انسانی رشتے نام کی کس شے پہ یقین نہیں رکھتے۔ ابن الوقتی ان کی زندگی کا نصب العین ہے۔"
عمران خان نے آغاز نواز شریف سے کیا۔ اپنی ذات کے لئے اور شوکت خانم ہسپتال کے لئے پلاٹ لئے۔ افتتاح کروائے۔ نواز شریف نے جیب سے کئی کروڑ دیا۔
پھر باری آگئی جنرل مشرف کی، اس کے ریفرنڈم کا سب سے بڑا سپورٹر عمران خان تھا۔ اس سے 100 قومی اسمبلی کی بھیک مانگتا رہا۔ اس نے ایک سیٹ دی۔
پھر… https://t.co/Gv4wQ85r4f— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) December 24, 2025








