بھائی کا وراثتی جائیداد زبانی تحفے میں ملنے کا دعویٰ مسترد
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائی کورٹ نے بھائی بہن کے درمیان 16 سال پرانا وراثتی جائیداد کا تنازع حل کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں تیز رفتار واٹر ٹینکر کی ٹکر سے ماں جاں بحق اور بیٹی زخمی، شہریوں نے واٹر ٹینکر کو آگ لگا دی
سیشن کورٹ کا فیصلہ برقرار
روزنامہ جنگ کے مطابق عدالت نے وراثتی جائیداد سے بہن کو حصہ دینے کا سیشن کورٹ کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے بھائی کا وراثتی جائیداد زبانی تحفے میں ملنے کا دعویٰ مسترد کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: بسنت کے موقع پر لاہور سفاری زو کو رنگ برنگی پتنگوں سے سجا دیا گیا، 2ہزار روپے انٹری مقرر
تحریری فیصلہ
جسٹس رسال حسن سید نے شہری محمد ریاض کی اپیل پر نو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ،پاسداران انقلاب گارڈز کے بریگیڈیئر جنرل پائلٹ سمیت جاں بحق
دعوی کی تفصیلات
جاری کردہ فیصلے کے مطابق درخواست گزار کا کہنا ہے کہ والد نے 2009 میں ساری جائیداد زبانی تحفے کے ذریعے اس کے نام کردی۔ تاہم درخواست گزار زبانی تحفے میں ملنے والی جائیداد کے ثبوت پیش نہیں کرسکا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سمیت دنیا بھر میں مسیحی برادری آج ایسٹر منا رہی ہے، وزیراعظم و صدر کی مبارکباد
فیصلے کی بنیاد
فیصلے میں کہا گیا کہ بھائی نے اپنے حق میں زبانی تحفے کے ذریعے بہن کو وراثتی جائیداد میں حصے سے محروم کیا۔ زبانی تحفے کا بینفشری ہونے کے ناطے درخواست گزار کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحفے کو ثابت کرے۔ درخواست گزار نہیں بتا سکا کہ تحفہ کب، کہاں، کس وقت اور کن گواہوں کی موجودگی میں دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو
اعتراضات اور توضیحات
فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے اعتراض عائد کیا کہ بہن نے تاخیر سے دعویٰ دائر کیا۔ بھائی غیر قانونی طور پر مرحوم باپ کی وراثتی جائیداد سے بہن کا حق ہتھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
عدالت کا اختتام
فیصلے میں کہا گیا کہ وراثتی حق سے متعلق دعویٰ محض مدتِ معیاد کی بنیاد پر ناقابلِ سماعت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ والد کے انتقال کے بعد 2009 میں وراثتی جائیداد بھائی اور بہن کو منتقل ہوئی۔ لہٰذا عدالت درخواستگار کی اپیل کو میرٹ پر مسترد کرتی ہے۔








