آخری چند دن دسمبر کے۔۔۔
دسمبر کی گزرگاہ
آخری چند دن دسمبر کے
ہر برس ہی گراں گزرتے ہیں
خواہشوں کے نگار خانوں سے
کیسے کیسے گمان گزرتے ہیں
رفتگاں کے گزرتے سایوں کی
ایک محفل سی دل میں سجتی ہے
فون کی ڈائری کے صفحوں سے
کتنے نمبر پکارتے ہیں مجھے
جن سے مربوط بے نوا گھنٹی
اب فقط میرے دل میں بجتی ہے
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے انتخابات، ووٹوں کی خرید و فروخت روکنے کے لیے کریک ڈاؤن جاری
یا دوں کی لکیر
کس قدر پیارے پیارے ناموں پر
رینگتی بد نما لکیریں سی
میری آنکھوں میں پھیل جاتی ہیں
دوریاں دائرے بناتی ہیں
نام جو کٹ گئے ہیں ان کے حرف
ایسے کاغذ پہ پھیل جاتے ہیں
حادثے کے مقام پر جیسے
خون کے سوکھتے نشانوں پر
چاک سے، لائنیں لگاتے ہیں
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے لیے کسی بھی پوزیشن پر کھیلنے کے لیے تیار ہوں، بابر اعظم
ڈائری کا سوال
پھر دسمبر کے آخری دن ہیں
ہر برس کی طرح سے اب کے بھی
ڈائری اک سوال کرتی ہے
کیا خبر اس برس کے آخر تک
میرے ان بے چراغ صفحوں سے
کتنے ہی نام کٹ گئے ہوں گے
کتنے نمبر بکھر کے رستوں میں
گرد ماضی سے اٹ گئے ہوں گے
خاک کی ڈھیریوں کے دامن میں
کتنے طوفاں سمٹ گئے ہوں گے
یہ بھی پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: چودھری پرویز الہٰی کی حاضری معافی کی درخواست منظور
ایک خیال
ہر دسمبر میں سوچتا ہوں میں
ایک دن اس طرح بھی ہونا ہے
رنگ کو روشنی میں کھونا ہے
اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی
ڈائری دوست دیکھتے ہوں گے
ان کی آنکھوں کے خاکدانوں میں
ایک صحرا سا پھیلتا ہو گا
اور کچھ بے نشان صفحوں سے
نام میرا بھی کٹ گیا ہو گا
کلام:
امجد اسلام امجد








