جیل سے واضح پیام آزادی یا موت آگیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی پنجاب اسمبلی میں گفتگو
لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی نے پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیل سے آزادی یا موت کا واضح پیغام آچکا ہے جس کے بعد غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی حمایت کرنے پر بھارت میں 3ملکوں کیخلاف ’’بائیکاٹ مہم‘‘ شروع ہو گئی
حکومت کی بدکرداری کا ذکر
پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی پنجاب، اپوزیشن لیڈر، سلمان اکرم راجہ اور عالیہ حمزہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، پنجاب میں بداخلاق اور بد تہذیب حکومت قائم ہے ، چکری سے لاہور تک پولیس نے بدتمیزی کی۔
یہ بھی پڑھیں: مجوزہ آئینی ترمیم کے لیے طلب سینیٹ اجلاس کا وقت چوتھی مرتبہ تبدیل
عزت اور احترام کی توقعات
انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے اسٹاف سے یہ توقع نہیں تھی جنہوں نے سلوک کیا، ہم جہاں بھی جاتے ہیں ہمیں عزت و احترام ملتی ہے اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس، پاک بھارت کشیدگی پر غور
عمران خان اور قومی سلامتی
انہوں نے کہا کہ کچھ نادان دوست عمران خان کو سیکیورٹی رسک کہتے ہیں لیکن عمران خان ہی قومی سلامتی و استحکام کی علامت ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا قرضہ 44 ہزار تھا آج یہ 80 ہزار ارب روپے پر پہنچ گیا ہے، نوجوان ملک سے باہر جارہا ہے اور ملکی معیشت تباہ ہورہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک سال میں کرپشن کی مد میں کتنے سو ارب روپے برآمد کیے گئے؟ قومی احتساب بیورو کے تہلکہ خیز انکشافات
ظلم کا مقابلہ
انہوں نے کہا کہ ہم زمین کے جھوٹے خداؤں سے نہیں ڈرتے، جو جتنا ظالم ہے وہ اتنا ہی بزدل اور ڈر پوک ہے، پاکستانی عوام کے جذبے کے ساتھ ہم ظلم کو شکست دیں گے بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔
نظریہ اور اسٹریٹ موومنٹ
انہوں نے کہا کہ میں ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے میرے نظریہ سے پیچھے ہٹائے یا سمجھوتہ کرنے پر مجبور کردے، میرے قائد کا فرمان آچکا ہے ہم نے اسٹریٹ موومنٹ کے لیے متحرک ہونا ہے۔








