امریکا، اسرائیل اور یورپ ایران کے خلاف مکمل جنگ میں مصروف ہیں، ایرانی صدر کا الزام
ایران کے صدر کا بیان
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور یورپی ممالک ایران کے خلاف ’’مکمل جنگ‘‘ میں مصروف ہیں اور ان کا مقصد ایران کو گھٹنوں پر لانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی نڈر عوام نے ملک بھر کے اہم پُلوں اور بجلی گھروں پر قومی پرچم تھام کر انسانی زنجیر بنا دی
ہمہ گیر جنگ کا سامنا
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری ویب سائٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر پزشکیان نے کہا کہ ان کے نزدیک ایران اس وقت امریکا، اسرائیل اور یورپ کے ساتھ ایک ہمہ گیر جنگ کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ بیان اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں کے چھ ماہ بعد سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا آغاز، فوجی کارروائیاں معطل کرنے کا اعلان
جوہری پابندیاں اور خطرناک صورتحال
انہوں نے کہا کہ فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ستمبر میں اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ صدر پزشکیان کے مطابق موجودہ صورتحال 1980 سے 1988 تک ایران اور عراق کے درمیان ہونے والی جنگ سے بھی زیادہ خطرناک اور پیچیدہ ہے، جس میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ویوو کا نیا سمارٹ فون V40e 5G اب پاکستان میں دستیاب
ایران اور اسرائیل کی جھڑپیں
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ ہوئی، جس کا آغاز ایران کے فوجی اور جوہری تنصیبات کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں پر اسرائیلی حملوں سے ہوا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔ بعد ازاں امریکا بھی اس کارروائی میں شامل ہوا اور ایران کے تین جوہری مقامات کو نشانہ بنایا۔
امریکی شمولیت اور مذاکرات میں تعطل
امریکی شمولیت کے باعث اپریل میں ایران کے جوہری پروگرام پر شروع ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد ایران کے خلاف اپنی سخت گیر ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی بحال کر دی ہے، جس کے تحت مزید پابندیاں عائد کی گئی ہیں تاکہ ایران کی معیشت کو نقصان پہنچایا جا سکے اور عالمی منڈی میں اس کی تیل کی آمدنی روکی جا سکے۔








