فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد عناصر کم سن بچوں کو نیا ہدف بنا رہے ہیں : وزیر داخلہ سندھ

دہشت گردوں کی کوششیں

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی محمد آزاد خان کے ہمراہ پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ ایک بچی کو دہشت گرد تنظیمیں خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد عناصر کم سن بچوں کو اپنا نیا ہدف بنا رہے ہیں اور سوشل میڈیا کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے معصوم ذہنوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ملتان ٹیسٹ: تیسرے روز کا کھیل ختم، انگلینڈ نے 3 وکٹ پر 492 رنز بنالیے

بچی کی حفاظت

سندھ کے وزیر داخلہ نے بتایا کہ اس مخصوص واقعہ میں کالعدم تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف سے منسلک نیٹ ورک نے ایک کم عمر بلوچ بچی کو ورغلا کر خودکش حملے کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر کارروائی سے نہ صرف بچی کی جان بچائی گئی بلکہ کراچی بھی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا۔

یہ بھی پڑھیں: 1 مئی کے مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں، بیرسٹر گوہر کا ردعمل بھی سامنے آگیا

سوشل میڈیا کا خطرہ

’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ایک بچی سے رابطہ کیا گیا، دہشت گردوں کی جانب سے کہانیاں سنائی گئیں اور اس بچی کی ذہن سازی کی گئی۔ کوشش کی ہے کہ اس بچی کے اہلخانہ اور ایڈریس کو سامنے نہ لایا جائے، حکومت ان کی بہتری کے لیے انتظام اور مدد کرے گی یہ ہماری ترجیح ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نئی گاڑیاں اور انکی ٹیسٹ ڈرائیوز – پاک ویلز نیو ویلز ایکسپو آ گیا!

دہشت گردوں کا جھوٹا بیانیہ

وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے، یہ لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے اسٹیٹ کے خلاف جھوٹا بیانیہ بناتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر نظر رکھیں۔ بلوچ عوام کو اس طرح کی دہشت گرد تنظیموں پر نظر رکھنی چاہیے۔ بروقت کارروائی سے ہم نے اس بچی کو بچا لیا، اور ہماری پوری کوشش ہے کہ بچی دوبارہ سے اپنی تعلیم کا سلسلہ شروع کرے۔

دہشتگردی کی بدترین شکل

’’دنیا نیوز‘‘ کے مطابق وزیر داخلہ سندھ نے اس واقعے کو واضح ثبوت قرار دیا کہ کالعدم تنظیمیں خواتین اور کم عمر بچیوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔ خودکش حملہ نہ اسلام میں جائز ہے، نہ انسانیت میں اور نہ ہی بلوچ روایات میں اس کی کوئی گنجائش ہے۔ کم عمر بچیوں کو موت کی طرف دھکیلنا دہشت گردی کی بدترین شکل اور کھلا انسانی استحصال ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...