ہر سال 62 لاکھ مزید بچے پیدا ہو رہے ہیں، پیدائش میں وقفہ دے نہیں رہے اور اسپتالوں کو برا کہتے ہیں: مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیر صحت کا خطاب
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ 25 کروڑ کی آبادی میں ہر سال 62 لاکھ مزید بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ ہمیں پیدائش میں وقفہ دینے پر توجہ دینی چاہیے، ورنہ اسپتالوں کو برا کہنا بے فائدہ ہوگا۔ جب نوجوان نسل بیمار ہوگی تو ملک کیسے ترقی کرے گا؟
یہ بھی پڑھیں: نوٹیفکیشن کی ضرورت نہیں، 27 ویں ترمیم کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف کے عہدے 2030 تک ساتھ چلیں گے، ماہرقانون احمد بلال محبوب
پہلی تھیلیسیمیا موبائل وین کا افتتاح
ملک کی پہلی تھیلیسیمیا موبائل وین کے افتتاح کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے، وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ہمیں اسپتال بنانے پر نہیں بلکہ مریض کم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ہمارے یہاں بچوں کی پیدائش کے وقت ماؤں کی اموات ہو رہی ہیں۔ دو متاثرہ افراد کی شادی سے بچہ متاثر ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں وزرا کے غائب رہنے پر ڈپٹی سپیکر کا ایوان نہ چلانے کا اعلان
بیماریوں کی وجوہات
ڈاکٹروں کے مطابق 70 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ صحت کی دیکھ بھال کا اصل مقصد انسان کو مریض بننے سے بچانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا صدر ٹرمپ پاکستان کا دورہ کریں گے یا نہیں؟ وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے صورتحال واضح کر دی
تھلیسیمیا کا علاج
’’جنگ‘‘ کے مطابق، مصطفیٰ کمال نے بیان کیا کہ تھلیسیمیا کا علاج بون میرو ہے اور 50 ہزار میں کوئی ایک بون میرو میچ کرتا ہے۔ پاکستان میں تھلیسیمیا کا بڑھتا ہوا رجحان تشویشناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلم شوٹنگ سے قبل جنات نے دھکا دے کر زخمی کردیا تھا : ثمینہ پیرزادہ
یہ بیماری کیوں بڑھ رہی ہے؟
کمال کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ تھلیسیمیا کا ٹیسٹ نکاح سے قبل لازم قرار دیا جائے۔ پاکستان میں پولیو ویکسین جیسے معاملات میں پولیس کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ لوگوں کو ویکسین کے بارے میں شکوک و شبہات ہوتے ہیں۔
اختتام
جب نوجوان نسل بیمار ہوگی تو ملک کیسے ترقی کرے گا؟ احتیاط علاج سے بہتر ہے، ہمیں اسپتالوں میں مریضوں کے رش کو کم کرنا ہوگا۔ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ موجودہ چیلنجز کا سامنا کریں۔








