شہزاد اکبر پر حملے کی تحقیقات اسکاٹ لینڈ یارڈ کے کاونٹر ٹیرر ازم یونٹ نے سھنبال لی ، ذرائع کا دعویٰ
تحقیقات کی شروعات
لندن (مجتبیٰ علی شاہ) قابل اعتماد ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق مشیر احتساب شہزاد اکبر پر حملے کی تحقیقات اسکاٹ لینڈ یارڈ کے کاونٹر ٹیرر ازم یونٹ نے سنبھال لی ہیں۔ یہ واقعہ تقریبا 10 روز قبل کیمبرج میں ان کے گھر کے دروازے پر پیش آیا، جہاں انہیں پرتشدد حملے کے ذریعہ زخمی کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: رینجرز اہلکاروں کو گاڑی تلے کچلنے والے ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع
پولیس کی کارروائی
حملے کے بعد کیمبرج پولیس نے تحقیقات کا آغاز کیا تھا، لیکن معاملے کی حساسیت کی وجہ سے فائل کاؤنٹر ٹیرر ازم پولیسنگ کمانڈ کو بھیج دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن غضب للحق: ۱۳۳ طالبان ہلاک، ۳۶ افغان ٹینک، ۱۶ پوسٹیں تباہ، ۷ پر قبضہ، پاک فضائیہ کے تابڑ توڑ حملے
تفصیلات کی فراہمی
ذرائع نے ڈیلی پاکستان کو بتایا کہ شہزاد اکبر کا بیان، فرانزک رپورٹ اور سی سی ٹی وی فوٹج بھی کاؤنٹر ٹیرر ازم پولیسنگ کمانڈ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔ کاؤنٹر ٹیرر ازم پولیسنگ یونٹ نے 50 کی دہائی کے شخص پر حملے کی تحقیقات کرنے کی تصدیق کی ہے۔ پولیس ترجمان نے بتایا کہ حملے کی نوعیت سے لگتا ہے کہ متاثرہ شخص کو ہدف بنا کر نشانہ بنایا گیا۔ تحقیقات میں حملے کی وجوہات سے متعلق ہر ممکنہ محرک کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جھنگ میں شہریوں کا پاک فضائیہ کو خراجِ تحسین
عوامی سلامتی
ترجمان نے بتایاکہ اس واقعہ کے حوالے سے عوام کو کوئی وسیع تر خطرہ نہیں، اور ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ اگر کسی کے پاس حملے کے حوالے سے معلومات ہوں تو وہ اعتماد کے ساتھ پولیس یا کرائم اسٹاپرز سے گمنام رہ کر بھی رابطہ کر سکتا ہے۔
شہزاد اکبر کے بیانات
شہزاد اکبر کے مطابق حملہ آور سفید فام تھا اور وہ ماسک، دستانے اور حفاظتی لباس پہنے ہوئے تھا۔ حملے کے نتیجے میں شہزاد اکبر کی ناک اور جبڑے کی ہڈی میں فریکچر ہوا تھا۔








