1. آپ کے سامنے لیڈر ہیں اور ان کا حشر بھی، باتوں کو شاید سنجیدگی سے نہیں لیا، تابع داری کی گزارشات رد ہو چکی تھیں، آدمی کو دوسرا موقع ملنا چاہیے تیسرا کبھی نہیں
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 400
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا لکی مروت میں فائرنگ کے واقعے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار
دیوانے کا خواب یا حقیقت
رحیم یار خاں کے چوہدریوں کو معطل ہوئے ایک ماہ ہو چکا تھا۔ ان کی ساری سفارشیں بیکار گئی تھیں۔ ان کی تابع داری کی گزارشات رد ہو چکی تھیں۔ انہوں نے خورشید صاحب کے گھر کا دروازہ توڑ ڈالا مگر دال نہ گلی تھی۔ ان کے جوابات موصول ہو چکے تھے۔ ان کی معافی کی سفارش خالد بھی کر چکا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت اور جنوبی افریقا کا میچ منسوخ ہونے پر فینز کیلئے اچھی خبر
خورشید صاحب کے ساتھ سفر
ایک روز میں خورشید صاحب کے ہمراہ رحیم یار خاں کے لئے روانہ ہوا جہاں ضلع کونسل حال میں پورے ضلع کی فیلڈ فورمیشن میری منتظر تھی۔ میں نے اس روز ان سے گفتگو کرتے کہا؛ ”آپ سب مجھے عزیز ہو۔ میں نے آپ سے 2 ماہ پہلے کہا تھا کہ میں کوتاہی برداشت نہیں کروں گا۔ آپ لوگوں نے میری باتوں کو شاید سنجیدگی سے نہیں لیا۔ بات سنی ان سنی کر دی۔ آپ کے 2لیڈر آپ کے سامنے ہیں اور ان کا حشر بھی۔ انہیں نے میرے دفتر آ کر ناک سے لکیریں نکالی ہیں۔ میرا اصول ہے کہ آدمی کو دوسرا موقع ملنا چاہیے تیسرا کبھی نہیں۔“
یہ بھی پڑھیں: سونا مزید مہنگا، قیمت پہلی بار 3 لاکھ 40 ہزار 6 سو روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
معافی کا اعلان
ان کے تحریری معافی نامے سب کو دکھائے اور بتایا؛ ”ناک سے نکالی گئی لکیروں اور اس معافی نامے کی بنیاد پر اس وارننگ سے معافی دے رہا ہوں کہ آئندہ یہ اور نہ ہی ان کے گروپ میں شامل کوئی اہلکار کسی بھی غلطی کے مرتکب ہوں گے اور کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس کی اجازت نہیں۔ اب آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ کام کیسے کرنا ہے۔ آپ کے لیڈر خود کو نہیں بچا سکے تو باقی آپ خود سمجھ دار ہیں۔“
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں واٹس ایپ اور انسٹاگرام تک رسائی میں مشکلات: سینکڑوں شکایات کے باوجود حکومت بے خبر
بہتری کی کوششیں
اس معافی کا آنے والے دنوں میں بڑا فائدہ ہوا۔ اول؛ سب یہ بات اچھی طرح جان گئے کہ یہ پاگل شخص ہے جو کہتا ہے کرتا ہے اور سفارش مانتا نہیں۔ دوئم؛ کام کرنے والے کا دوست ہے۔ کوئی اس تک سفارش نہیں کر سکتا ہم خود ہی اپنی سفارش ہیں۔ سوئم؛ پورے ڈویثرن میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ جب تک یہ شخص یہاں ڈائریکٹر ہے ہمیں اپنا قبلہ درست کرنا ہے۔ میری کوششیں بہتری لے آئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں خواتین افسران کو ’سر‘ کہنے کا پروٹوکول ختم
ڈوئیل چارجز کا خاتمہ
ایک اور بات جو میرے نوٹس میں آئی وہ تینوں اضلاع میں بغیر کسی وجہ من پسند سیکرٹریوں کو ڈوئیل چارج دئے گئے تھے جس کی اکثر کیسز میں ایک ہی وجہ تھی "ذاتی فائدہ۔" میرا پہلا حکم نامہ ہی یہ تھا ”اگلے 15دن میں تمام ڈوئیل چارجز ختم کرکے رپورٹ کی جائے اور آئندہ ڈوئیل چارج کی justification ڈائریکٹر آفس کی اجازت سے مشروط کر دی۔ اسی ایک قدم سے تقریباً 20 فی صد حالات فوری طور پر ہی بہتر ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی رینکنگ، صائم ایوب نے تمام آل راؤنڈرز کو پیچھے چھوڑ دیا
ترکیبی بہتری
زنگ میں بھنگ؛ ایک روز میں گھر بیٹھا عامر سے گپ لگا رہا تھا کہ خیال آیا یونہی سیکرٹری یونین کونسلز کو معطل کرنا مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔ کتنے لوگوں کو معطل کرتا، کام بھی تو چلانا تھا اور کوئی فرشتے تو تھے نہیں کہ وہ معطل شدہ کی جگہ لیں گے۔ ویسے بھی معطل کرنے سے جو بہتری آئی تھی وہ پبلک کو ناجائز تنگ کرنے کے حوالے سے تھی جبکہ کام کی سمجھ بالکل دوسری بات تھی۔ لہٰذا سوچا کیوں نہ ان کی تربیت کا بندوبست کیا جائے تاکہ انہیں اپنے کام کے حوالے سے کچھ بنیادی قوانین کی آگاہی دی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: 6 ممالک نے پاکستان کے ساتھ مل کر بھارت پر سائبر حملے کئے: ٹائمز آف انڈیا
تاریخی پس منظر
دراصل یہ ساری گڑ بڑ اور بدقسمتی اس وقت شروع ہوئی جب پرویز مشرف صاحب کا مقامی حکومتوں کا نظام متعارف ہوا تو میونسپل کمیٹیوں اور ضلع کونسلوں کے بہت سے عمال جو بنیادی طور پر چونگی محرر تھے انہیں بطور سیکرٹری یونین کونسلوں میں کھپایا گیا تھا۔ نہ انہیں کسی قسم کی تربیت دی گئی اور نہ ہی کسی قائدے قانون کے تحت انہیں یونین کونسلوں میں ایڈجسٹ کیا گیا۔ ڈنگ ٹپاؤ والا معاملہ اختیار کیا گیا۔ نتیجہ یہی نکلنا تھا کہ یونین کونسل جیسے انتہائی بنیادی اور اہم ادارے کو ایسا زنگ لگا کہ اب تک زنگ اتارنے کی کوشش ہی نہ کی گئی تھی۔ میں فیصلہ کر چکا تھا کہ مجھے اس زنگ میں بھنگ تربیت کے ذریعے ڈالنی تھی۔ (جاری ہے)
کتاب کی معلومات
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








