وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے رواں سال گیس کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا
اجلاس کی تفصیلات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ پیٹرولیم کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے گیس سیکٹر سے متعلق اہم بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: 26 ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کی بالا دستی کیلئے ضروری تھی:مریم نواز
گیس گردشی قرض کی صورتحال
وزیرِ پیٹرولیم نے بتایا کہ گیس کے گردشی قرض کا فلو اس وقت صفر ہے جبکہ مجموعی گیس گردشی قرض تقریباً 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں سے 1700 ارب روپے صرف سود کی مد میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے سری لنکا میں نئی تاریخ رقم کر دی
پوری عالمی صورتحال
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر ایل این جی کارگو کی قیمت 30 ڈالر تک چلی گئی تھی تاہم قطر نے معاہدے کے تحت پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی جاری رکھی، جس پر پاکستان قطر کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمرے سے آئے رشتہ دار کو لینے جانیوالے خاندان کی گاڑی کو حادثہ، ہلاکتیں
گیس کی قیمتوں کا مستقبل
انہوں نے واضح کیا کہ اگر گردشی قرض میں اضافہ ہو رہا ہوتا تو گیس کی قیمتیں بڑھانا ناگزیر ہوتا، تاہم رواں سال گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائی جائیں گی اور نرخ برقرار رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے نے ہزاروں موبائل فون نمبرز بلاک کر دیئے
پاور سیکٹر کی گیس طلب
وزیرِ پیٹرولیم نے پاور سیکٹر کی گیس طلب میں اتار چڑھاؤ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاور سیکٹر صبح کے وقت 800 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مانگتا ہے، جبکہ دوپہر بارہ بجے یہی طلب 400 ایم ایم سی ایف ڈی رہ جاتی ہے۔ ان کے مطابق پاور سیکٹر نے جنوری میں 200 ایم ایم سی ایف ڈی گیس طلب کی تھی اور اب 500 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مانگ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شفع جان نے تو اپنے بیان پر معافی مانگ لی، اب دیکھنا یہ ہے عظمیٰ بخاری پٹھانوں اور پشتونوں کو جنگلی کہنے پر کب معافی مانگتی ہیں، شوکت بسرا
ترک پیٹرولیم کی ڈرلنگ
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ انڈس بیسن میں ترک پیٹرولیم سمندر میں ڈرلنگ کرے گی، جس کے لیے پاکستان کی کمپنیاں بھی جوائنٹ وینچر میں شامل ہیں اور انہیں اس منصوبے کے تحت سرمایہ فراہم کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: Punjab Government Orders Arrest of PTI’s 1590 Workers
بلوچستان کی گیس طلب
سوئی سدرن حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں سردیوں میں گیس کی طلب دو گنا ہوجاتی ہے، بلوچستان میں گرمیوں میں گیس کی طلب 70 ایم ایم سی ایف ڈی ہوتی ہے، سردیوں میں یہ طلب 155ایم ایم سی ایف ڈی تک پہنچ جاتی ہے۔
نقصانات اور بحالی کی کوششیں
بلوچستان میں گیس سیکٹر سالانہ نقصان 12 ارب روپے کا ہے، جھل مگسی کنواں ڈراپ ہونے سے بھی گیس کی قلت پیدا ہوئی، کمپریسر پمپ لگانے سے گیس کا پریشر کم ہورہا ہے۔ سوئی سدرن میں گیس کے نقصانات کو60 فیصد کم کیا ہے، کوشش ہے گیس نقصانات کی شرح سنگل ڈیجٹ پر لے آئیں۔








