وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے رواں سال گیس کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا
اجلاس کی تفصیلات
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)مصطفیٰ محمود کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ پیٹرولیم کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے گیس سیکٹر سے متعلق اہم بریفنگ دی۔
یہ بھی پڑھیں: اس دور میں لڑکوں کیلئے سکاؤٹنگ موومنٹ اور لڑکیوں کیلئے گرل گائیڈ تحریک ملک بھر میں فعال نظر آتی تھیں، نتھیا گلی مری میں ہر سال کیمپ منعقد ہوتے تھے۔
گیس گردشی قرض کی صورتحال
وزیرِ پیٹرولیم نے بتایا کہ گیس کے گردشی قرض کا فلو اس وقت صفر ہے جبکہ مجموعی گیس گردشی قرض تقریباً 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جس میں سے 1700 ارب روپے صرف سود کی مد میں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کسی ٹک ٹاکر کی نازیبا ویڈیو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر نہ کریں ، اداکارہ مشی خان کا مشورہ
پوری عالمی صورتحال
علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر ایل این جی کارگو کی قیمت 30 ڈالر تک چلی گئی تھی تاہم قطر نے معاہدے کے تحت پاکستان کو ایل این جی کی فراہمی جاری رکھی، جس پر پاکستان قطر کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکنو نے قسط بازار 2025 میں آسان قسطوں پر سمارٹ فونز کی پیشکش متعارف کروادی
گیس کی قیمتوں کا مستقبل
انہوں نے واضح کیا کہ اگر گردشی قرض میں اضافہ ہو رہا ہوتا تو گیس کی قیمتیں بڑھانا ناگزیر ہوتا، تاہم رواں سال گیس کی قیمتیں نہیں بڑھائی جائیں گی اور نرخ برقرار رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ؛ سری لنکن ٹیم کو خراج تحسین پیش کرنے کی تعریفی قرارداد متفقہ طور پر منظور
پاور سیکٹر کی گیس طلب
وزیرِ پیٹرولیم نے پاور سیکٹر کی گیس طلب میں اتار چڑھاؤ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاور سیکٹر صبح کے وقت 800 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مانگتا ہے، جبکہ دوپہر بارہ بجے یہی طلب 400 ایم ایم سی ایف ڈی رہ جاتی ہے۔ ان کے مطابق پاور سیکٹر نے جنوری میں 200 ایم ایم سی ایف ڈی گیس طلب کی تھی اور اب 500 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مانگ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس، اعلامیہ جاری کر دیا گیا
ترک پیٹرولیم کی ڈرلنگ
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ انڈس بیسن میں ترک پیٹرولیم سمندر میں ڈرلنگ کرے گی، جس کے لیے پاکستان کی کمپنیاں بھی جوائنٹ وینچر میں شامل ہیں اور انہیں اس منصوبے کے تحت سرمایہ فراہم کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے لیے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں، بھارتی وزیر آبی وسائل کا اعلان، ۳ منصوبوں پر کام شروع
بلوچستان کی گیس طلب
سوئی سدرن حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان میں سردیوں میں گیس کی طلب دو گنا ہوجاتی ہے، بلوچستان میں گرمیوں میں گیس کی طلب 70 ایم ایم سی ایف ڈی ہوتی ہے، سردیوں میں یہ طلب 155ایم ایم سی ایف ڈی تک پہنچ جاتی ہے۔
نقصانات اور بحالی کی کوششیں
بلوچستان میں گیس سیکٹر سالانہ نقصان 12 ارب روپے کا ہے، جھل مگسی کنواں ڈراپ ہونے سے بھی گیس کی قلت پیدا ہوئی، کمپریسر پمپ لگانے سے گیس کا پریشر کم ہورہا ہے۔ سوئی سدرن میں گیس کے نقصانات کو60 فیصد کم کیا ہے، کوشش ہے گیس نقصانات کی شرح سنگل ڈیجٹ پر لے آئیں۔








