لوگوں کو دو دو ہزار سال کی سزائیں سنادیں؟ کیا ایسے ملک چلے گا؟ فواد چودھری
فواد چودھری کا نکتہ نظر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ لوگوں کو دو دو ہزار سال کی سزائیں سنادیں کیا ایسے ملک چلے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر اسرائیلی حملوں میں 6 سائنسدان شہید ہوئے، ایرانی میڈیا
میڈیا سے گفتگو
روزنامہ جنگ کے مطابق لاہور میں انسداد دہشتگردی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ ہماری حکومت کو روز ایک تماشا چاہیے، اپوزیشن کی طرف سے بھی کوئی سنجیدہ بات نہیں کی جاتی ہے، گوہر صاحب نے اگرعہدہ قبول کیا ہے تو تھوڑی ہمت بھی دکھائیں۔
یہ بھی پڑھیں: نجی اسکول میں پولیو ٹیم سے مبینہ بدسلوکی، وزیراعلیٰ کا نوٹس، رپورٹ طلب کر لی
مذاکرات کی اہمیت
فواد چودھری نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ آپ مذاکرات چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آصف زرداری اور شہباز شریف ان مذاکرات کی اونر شپ لیں، لڑائی آپ کی ہو رہی ہے کہ بھگت پاکستان رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: متاثرین سیلاب کو گھروں میں شفٹ کرنے تک حکومت پنجاب متحرک رہے گی: سہیل شوکت بٹ
خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ
انہوں نے کہا کہ ابھی تک خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے بہت ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، دوسری طرف سے سہیل آفریدی کے متعلق جو بیان آیا وہ افسوسناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے کباب اور ربڑی نے امریکی سفیر کا دل موہ لیا
ملتان جانے کا ارادہ
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اگلے مرحلے میں ہم ملتان جارہے ہیں، بشریٰ بی بی اور ڈاکٹر یاسمین راشد کو جیل سے رہا کیا جائے، پی ٹی آئی کے اصل سٹیک ہولڈرز تو جیلوں میں ہیں، شاہ محمود قریشی سمیت تمام لیڈرشپ مذاکرات کا کہہ چکی ہے، پی ٹی آئی کے اصل لوگوں کو آپ نے ٹھڈے مکے مار کے نکال دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11 روپے 37 پیسے تک کا اضافہ
معاشی صورتحال
فواد چودھری نے کہا کہ ہاؤس ہولڈ سروے کے مطابق 30 فیصد پاکستانی تین وقت کا کھانا نہیں کھا سکتے، ہماری آمدنی اس وقت 2015 کے لیول پر چلی گئی ہے۔
اوور سیز پاکستانیوں کی تشویش
ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی اوور سیز پاکستانی اس وقت ایک ڈالر انویسٹ کرنے کو تیار نہیں، ہم اوور سیز پاکستانیوں کے بھی مشکور ہیں جنہوں نے حکومت کو سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کا کہا ہے، مذاکرات کے لیے حکومت کو سیاسی درجہ حرارت نیچے لانا ہوگا۔








