میں اپنے لیڈر سے ملنا چاہتا ہوں لیکن کسی نے نہیں سنی، جب دیوار سے لگایا جاتا ہے تو پھر احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے،وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا عمران خان سے ملاقات کا اظہار
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ میں اپنے لیڈر عمران خان سے ملنا چاہتا ہوں لیکن کسی نے نہیں سنی، جب دیوار سے لگایا جاتا ہے تو پھر احتجاج کا آپشن ہی بچتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے انتخابات، ووٹوں کی خرید و فروخت روکنے کے لیے کریک ڈاؤن جاری
سندھ ہائیکورٹ میں خطاب
سندھ ہائیکورٹ میں تقریب سے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان حقیقی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے، میرا لیڈر جیل میں ہے اور وہ پاکستان کا مقبول ترین لیڈر ہے۔ چیف جسٹس بھی ملاقات کو تیار نہیں اور نہ لیٹر کا جواب دیا۔
یہ بھی پڑھیں: 100 اور 1500 مالیت کے انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی 15مئی کو ہو گی
احتجاجی سیاست کی وجوہات
احتجاجی سیاست میں ہم تب جاتے ہیں جب کوئی راستہ نہیں بچتا جبکہ آئین و قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ وزیر اعلیٰ بنا تو وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیف جسٹس کو خط لکھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز حکم دیتے ہیں کہ میں عمران خان سے مل سکتا ہوں، تین ججز نے یہ حکم دیا لیکن اس حکم کو ردی کی ٹوکری میں ایک جیل سپرنٹنڈنٹ پھینک دیتا ہے۔ یہ میری بے عزتی نہیں بلکہ عدلیہ اور وکلاء پیشے کی بے توقیری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ایرانی اور روسی سفیروں کی اہم ملاقات
عدلیہ کی حیثیت اور وکلاء کی اہمیت
آئین و قانون کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے، اداروں کا نہیں پورے پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے، انصاف برائے فروخت نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے پی آئی اے کو بھی نیلام کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کس کو کیا تحفہ ملا؟ توشہ خانہ کا مزید ریکارڈ منظر عام پر آگیا۔
سندھ ہائیکورٹ بار کے وکلاء کا شکریہ
انہوں نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ بار کے تمام وکلاء کا مشکور ہوں اور مجھے خوشی ہے کہ میں وکلاء کے سامنے اپنی بات رکھ رہا ہوں، سندھ کی عوام بہادر، جرأت مند اور دلیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریلوے کی آمدنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر
سندھیوں کی مہمان نوازی
وزیر اعلیٰ نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ سندھیوں نے اپنے دارالخلافہ میں سب قوموں کو جگہ دی ہے، سندھیوں کا دل بڑا ہے جو مہمانوں کو عزت دیتے ہیں لیکن سندھ کی حکومت نے مہمانوں کے ساتھ اچھا نہیں کیا اور اجرک ٹوپی کی عزت نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: آباؤ اجداد کے ہمراہ 1947ء میں اِس ارض مقدس میں آ کر سجدہ ریز ہوئے، قربانیوں کی داستانیں نشان راہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں
وکلاء کی تحریک کا آغاز
جب تک وکلاء کھڑے نہیں ہوں گے عدلیہ آزاد نہیں ہوگی، جتنی بھی تحریک چلی سندھ ہائیکورٹ بار کھڑا رہا۔ وکلاء تحریک شروع کریں، میں آئین و قانون کی بالادستی کے لیے کھڑا رہوں گا، وکلاء پر گولی چلانے سے پہلے مجھ پر گولی چلانا پڑے گی۔ وکلاء بہادر ہیں، دلیر ہیں جبکہ زندگی و موت اللہ کے ہاتھ میں ہے تو پھر ہم کیوں ڈریں۔
خود اعتمادی اور حقوق کی اہمیت
ہمیں اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا ہوگا، اس کے بغیر ناممکن ہے۔ لوگ جتنا ڈریں گے یہ لوگ آپ کو اتنا دبائیں گے, قوم اور ہم وکلاء کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
سہیل آفریدی کا سندھ ہائی کورٹ بار سے خطاب pic.twitter.com/mL758gUgg6
— LAL MALHI (@LALMALHI) January 12, 2026








