بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے تحت ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ آئینی قرار
وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے تحت ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کو آئینی قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر حکومت نے بجلی کے کروڑوں کے بقایا جات معاف کردیئے۔
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان بریچ نے کیس کی سماعت کی، 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی حملے سے قبل ہی جوہری تنصیبات کو خالی کرالیا تھا، ایرانی حکام
اٹک سیمنٹ کی پٹیشن مسترد
آئینی عدالت نے اٹک سیمنٹ کی بلوچستان حکومت کے خلاف دائر پٹیشن مسترد کرتے ہوئے "دوہرا پہلو اصول" کو تسلیم کرتے ہوئے قانون کو آئینی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے کشیدگی میں کمی کی کوششوں پر آمادگی ظاہر کردی، عمان کا دعویٰ
تحریری فیصلے کی تفصیلات
تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ ایک قانون کے وفاقی اور صوبائی دونوں پہلو ہو سکتے ہیں، اس لیے قانون درست ہے۔ معدنیات پر ایکسائز ڈیوٹی لیبر ویلفیئر کے لیے ہے، مقصد عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایسا بجٹ لا رہے ہیں جو ترقی کا روڈ میپ ہو گا: وزیر اعلیٰ بلوچستان کا بڑا دعویٰ
لیبر ویلفیئر صوبائی اختیار
وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق لیبر ویلفیئر صوبائی اختیار ہے، اس لیے صوبائی اسمبلی کو قانون سازی کا حق حاصل ہے۔ صوبائی قانون وفاقی اختیار کو ختم نہیں کرتا بلکہ آئینی ہم آہنگی میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانیہ کا مشرقِ وسطیٰ میں فوجی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ
درخواست گزار کا موقف
درخواست گزار کی استدعا تھی کہ بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے ذریعے ایکسائز ڈیوٹی میں ترمیم کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔ درخواست میں موقف تھا کہ ایکسائز ڈیوٹی لگانا وفاقی اختیار ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار نہیں۔
ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں اضافہ
بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے ذریعے معدنیات پر ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں بڑا اضافہ کیا گیا۔








