ہر ظلم کا انجام ہے، ہر جبر کی اک حد۔۔۔
افسانہ بیاں
کیسے کریں اس شخص کا افسانہ بیاں بھی
جو راحتِ دل بھی ہو، جو ہو دشمن جاں بھی
شاید کبھی مل جائے ہمیں اذن بیاں بھی
ایجاد تو کر رکھیں کوئی طرزِ فغاں بھی
یہ بھی پڑھیں: نوازشریف کے تو کھانے گھر سے آتے تھے، سو سو بندہ ملنے جاتا تھا، بانی پی ٹی آئی کی تمام جیل سہولیات ختم کردی گئیں، علیمہ خان
محبت کا تلاش
مل جاتی ہے اب بھی کہیں ڈھونڈے سے محبت
گو ختم ہوئی جاتی ہے یہ جنس گراں بھی
ہر ظلم کا انجام ہے، ہر جبر کی اک حد
آگہ رہیں اس بات سے فرعون زماں بھی
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے مختلف اضلاع سے ’’را‘‘ کے 6 سہولت کار گرفتار
ایمان کا یقین
ابکے نہ اماں پائیں گے یہ اہل حشم بھی
ابکے نہیں بچ پائیں گے شیشے کے مکاں بھی
ہاں مجھ کو یقیں، مجھ کو یقیں، مجھ کو یقیں ہے
اک روز بدل جائے گی وحشت کی زباں بھی
یہ بھی پڑھیں: سال کے 365 دن کیفے چلانے والی 100 برس کی خاتون، 1958 سے کوئی چھٹی نہیں کی
بہتری کی امید
اک روز ہاں چھٹ جائیں گے یہ جبر کے بادل
اک روز ہاں پا لے گی یہ مخلوق اماں بھی
اک روز کسی سمت نہ رہ جائے گی ظلمت
اور راہ سے ہٹ جائیں گے سب سنگ گراں بھی
تبدیلی کی امید
ہاں مجھ کو یقیں، مجھ کو یقیں، مجھ کو یقیں ہے
اک روز بدل جائے گا یہ کہنہ جہاں بھی
کلام: ازھر منیر
(شعری مجموعہ ’’یاد آئی اک پریت پرانی‘‘ سے)








