پاکستان اسٹیل ملز کراچی میں بڑے پیمانے پر منظم چوری کا انکشاف
پاکستان اسٹیل ملز میں منظم چوری کا انکشاف
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اسٹیل ملز کراچی میں بڑے پیمانے پر منظم چوری کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ وزارت صنعت و پیداوار نے معاملہ ایف آئی اے کے سپرد کرنے کی سفارش کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: کرپشن پر پاکستان کا مجموعی سکور ایک درجہ بہتری کے ساتھ 28 تک پہنچ گیا، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل
چوری کی واردات کی تفصیلات
کراچی میں واقع پاکستان اسٹیل ملز کے بی زون، بن قاسم میں 24 دسمبر 2025 کو ہونے والی منظم چوری کی واردات سے متعلق اہم حقائق سامنے آ گئے ہیں جن کے بعد وفاقی وزارت صنعت و پیداوار نے باضابطہ طور پر ایف آئی اے سے جامع تحقیقات کی سفارش کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مرزا آفریدی نے سینٹر بننے کے لیے شبلی فراز کو 12 کروڑ روپے دیے، اینکر پرسن عمران ریاض کا الزام
قومی خزانے اور انفراسٹرکچر کو نقصان
سرکاری مراسلے کے مطابق چوری کی ان وارداتوں کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا اور ملز کا قیمتی انفراسٹرکچر شدید متاثر ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: انگلینڈ کا پیس اٹیک میں تبدیلی پر غور، اہم فاسٹ بولرز کی واپسی متوقع
اندرونی انکوائری کے نتائج
اندرونی انکوائری اور پولیس رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان نے بھاری مشینری، بجلی کی قیمتی کیبلز، صنعتی اسکریپ اور دیگر اہم سامان منظم انداز میں اسٹیل ملز کے احاطے سے نکالا۔ حیران کن طور پر یہ سامان گیٹ نمبر 5 سے بغیر کسی قانونی گیٹ پاس کے باہر لے جایا گیا، جس سے سیکیورٹی نظام پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میانوالی پولیس رویہ کے خلاف والد کا اقدام خودکشی، متعلقہ بچے کا ویڈیو پیغام بھی سامنے آ گیا
پولیس کارروائی
پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران 22 وہیلر ٹرک سے تقریباً 36 ٹن چوری شدہ سامان برآمد کیا گیا۔ تھانہ بن قاسم میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ تفتیش کے دوران اسٹیل ملز کی سیکیورٹی اور ڈیفینس سیکیورٹی فورس کے بعض اہلکاروں کی غفلت اور ممکنہ ملی بھگت بھی سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے 6 ماہ میں 1254 ارب روپے بیرونی قرضہ لے لیا
ملزمان کے خلاف الزام
پولیس نے سجاد حسین خان اور نثار احمد پر چوری میں سہولت کاری کا الزام عائد کیا ہے جبکہ ملزمان کاشف غفور اور چوہدری اکرم پر عدالت میں گمراہ کن بیانات جمع کرانے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔ ان بیانات کے باعث ملزمان کو ضمانت مل گئی جس سے استغاثہ کا کیس کمزور پڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر سندھ کا 9 مئی کے ملزمان کو عام معافی دینے کا مطالبہ
ایف آئی اے کی جامع تحقیقات کی سفارش
وزارت صنعت و پیداوار کے سیکشن آفیسر شاہد علی خان نے ڈی جی ایف آئی اے کو ارسال کیے گئے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ منظم جرم اور سرکاری املاک کی چوری کا معاملہ ہے جو ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے تمام ملوث افراد کے خلاف جامع تحقیقات کی جائیں۔ مراسلے میں اسکریپ ڈیلرز اور دیگر سہولت کاروں کے کردار کی چھان بین کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔
سیکریٹری داخلہ کو مراسلہ ارسال
یہ مراسلہ سیکریٹری داخلہ کو بھی ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ قومی اثاثوں کے تحفظ اور مستقبل میں ایسی وارداتوں کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جا سکیں.








