شامی حکومت اور امریکی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف میں جنگ بندی ہوگئی۔

شام میں جنگ بندی کا معاہدہ

دمشق (ڈیلی پاکستان آن لائن) شام میں حکومت اور کرد قیادت کے درمیان اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں شامی حکومت اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے درمیان تمام محاذوں پر فوری اور جامع جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ یہ معاہدہ شمال مشرقی شام میں کئی دنوں سے جاری شدید جھڑپوں کے بعد طے پایا، جب شامی فوج نے کردوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں کی جانب پیش قدمی کی۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ 2026 ہائیکورٹ میں چیلنج

جنگ بندی کے نتائج

شامی صدارتی دفتر کی جانب سے جاری کردہ دستاویز کے مطابق جنگ بندی کے ساتھ ہی ایس ڈی ایف سے وابستہ تمام مسلح عناصر دریائے فرات کے مشرقی کنارے کی جانب واپس چلے جائیں گے۔ معاہدے کے تحت ایس ڈی ایف کے تمام جنگجوؤں کو سکیورٹی جانچ پڑتال کے بعد شامی وزارتِ دفاع اور وزارتِ داخلہ میں ضم کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف 2 روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

علاقائی کنٹرول کی تبدیلی

روئٹرز کے مطابق دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ شامی حکومت دیر الزور اور رقہ کے وہ تمام علاقے، جو اب تک کرد فورسز کے زیرِ انتظام تھے، فوری طور پر عسکری اور انتظامی کنٹرول میں لے لے گی۔ اسی طرح تمام سرحدی گزرگاہیں، تیل و گیس کے کنویں اور توانائی کے دیگر اہم اثاثے بھی ریاستی تحویل میں دے دیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سونے اور قیمتی دھاتوں کے حصول کے لیے کچرے کے ڈھیروں پر جینے والی زندگیاں

غیر ملکی عناصر کی خارجگی

معاہدے کے ایک اہم نکتے کے مطابق ایس ڈی ایف غیر شامی قیادت اور کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے وابستہ تمام عناصر کو شام سے باہر نکالنے کی پابند ہوگی۔ شامی صدارتی دفتر کی جانب سے جاری دستاویز پر صدر احمد الشرع اور ایس ڈی ایف کے سربراہ مظلوم عبدی کے دستخط موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور ریلوے اسٹیشن پر قلی اب کس کی زیر نگرانی کام کریں گے ۔۔۔؟ جانیے

شامی صدر کا بیان

شامی صدر احمد الشرع نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایس ڈی ایف سے متعلق تمام زیر التوا معاملات حل کر لیے جائیں گے، جبکہ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ پیر کے روز مظلوم عبدی سے ملاقات بھی کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان دور میں اداروں کے دباؤ پر مجھے چینل سے نکالا گیا، رؤف کلاسرا

عمر تیل میدان کی صورت حال

اس سے پہلے شامی فوج اور اس کے اتحادی عرب قبائلی جنگجوؤں نے دیر الزور میں واقع العمر آئل فیلڈ، جو ملک کا سب سے بڑا تیل کا میدان ہے، اور کونیکو گیس فیلڈ پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ یہ علاقے دریائے فرات کے مشرق میں واقع ہیں اور طویل عرصے سے کرد قیادت کے لیے آمدن کا بڑا ذریعہ سمجھے جاتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: افغانستان کا ایران میں ہونے والے خصوصی علاقائی اجلاس میں شرکت سے انکار

امریکی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کی حالت

امریکی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف کے زیرِ کنٹرول شمال مشرقی شام میں شامی فوج کی پیش قدمی امریکی اپیلوں کے باوجود جاری رہی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق عرب قبائلی فورسز کی قیادت میں ہونے والی کارروائیوں کے نتیجے میں کرد فورسز کو پسپائی اختیار کرنا پڑی، جس کے بعد شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر عراق کی سرحد کے قریب باغوز سے لے کر الشحیل اور بصیرہ جیسے اہم قصبوں تک تقریباً 150 کلومیٹر طویل علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا۔

طبقا شہر پر قبضہ

ہفتے کی رات شامی فوج نے رقہ کے مغرب میں واقع شہر طبقا، اس کے ساتھ موجود ڈیم اور اہم فریڈم ڈیم، جسے پہلے بعث ڈیم کہا جاتا تھا، پر بھی قبضہ کر لیا۔

Categories: عرب دنیا

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...