دہشتگردوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہو سکتی، خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کیوں نہیں بنائی گئی؟ وزیر مملکت طلال چوہدری قومی اسمبلی میں کھل کر بول پڑے
خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کی عدم موجودگی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر مملکت طلال چوہدری نے قومی اسمبلی میں کھل کر خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی نہ بنائے جانے پر سوال اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں: زمین زرخیز ہونے کا وقت تھا، اضافی چارج سے جان چھوٹ گئی،محکمے میں وقت پر ترقی کا رواج نہ تھا، افسران صرف اپنی ذات کی حد تک ہی سوچتے تھے
دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ضروری
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں سے ہمدردی کرنا ناقابل قبول ہے اور ان کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہے۔ پی ٹی آئی کی پالیسیوں اور صوبائی حکومت کی ناکامی کی بدولت خیبرپختونخوا جل رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اپنے ارمان پورے کر رہے ہیں، عوام کا اللّٰہ حافظ ہے: گورنر فیصل کریم کنڈی
صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں موجودہ حالات میں صوبائی حکومت کا کردار مشکوک ہے، کیونکہ گزشتہ 14 برسوں سے ایک ہی جماعت حکمرانی کر رہی ہے۔ صوبے میں روزانہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو ہارورڈ کے غیر ملکی طلباء پر پابندی لگانے سے روک دیا
سی ٹی ڈی کی عدم تشکیل کے بارے میں سوالات
طلال چوہدری نے اپنے خطاب میں پوچھا کہ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کیوں نہیں بنائی گئی، اور صوبائی حکومت کی کارکردگی کو صفر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاسی کھیلوں میں مشغول رہی، جس کی وجہ سے پورا ملک دہشت گردی کے اثرات کا شکار ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے سوات میں پھنسے خاندان کی مدد کے لیے ریسکیو کی پہلی گاڑی کتنی دیر میں پہنچی؟
کاؤنٹر ٹیررازم میں شرکت کی اہمیت
انہوں نے مزید کہا کہ سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومت کو کس نے روکا کہ وہ کاؤنٹر ٹیررازم میں فوج کے ساتھ تعاون نہ کرے۔ جب انہیں اجلاس میں بلایا جاتا ہے تو وہ کیوں حاضر نہیں ہوتے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈرائیو میں 22 نکات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اب پنجاب حکومت آپ کو سائیکل یا الیکٹرک بائیک خریدنے اور چلانے پر 1 لاکھ روپے تک انعام دے گی
نیشنل ایکشن پلان پر سیاسی جماعتوں کا اتفاق
پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں نیشنل ایکشن پلان ٹو بنائی گئی تھی، جس پر تمام سیاسی جماعتیں متفق تھیں۔
این ایف سی کے حوالے سے معلومات
انہوں نے این ایف سی کے متعلق بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ جولائی 2010 سے نومبر 2025 تک خیبرپختونخوا کو 5867 ارب روپے دیئے جا چکے ہیں۔








