بھتیجے کا فون آیا تھا، وہ کہہ رہا تھا مجھے بچاؤ، مجھے بچاؤ، ہر طرف آگ ہے، عمارت کے باہر بیٹھے چچا کی نجی ٹی وی سے گفتگو
سانحہ گل پلازہ: شہر میں سوگ کی فضا
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن )سانحہ گل پلازہ نے شہر کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ملبے تلے دبے جہاں بیسیوں خاندان بے بسی کے عالم میں دربدر ہیں، وہیں عارف کے اہلخانہ بھی کسی حیران کن صورتحال کے منتظر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ بیک وقت امن اور دھمکیوں کی بات کرتے ہیں، کس پر یقین کریں؟ ایرانی صدر نے سوال اٹھا دیا
عارف کے اہلخانہ کی حالت زار
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق عمارت کے باہر بیٹھے عارف کے چاچا نے بتایا کہ بھتیجے کا فون آیا تھا کہ مجھے بچاؤ، مجھے بچاؤ۔ میں آگ میں گھرا ہوا ہوں اور دم گھٹ رہا ہے۔ بزرگ چاچا نے شکوہ کیا کہ اہلخانہ کبھی ڈی سی آفس اور کبھی سول اسپتال کے چکر لگا رہے ہیں لیکن کوئی سرکاری افسر بات کرنے یا سننے کو تیار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک فوج نے دشمن کو تاریخی جواب دیا، قوم کو فخر ہے: شیخ وقاص اکرم
محمد رفیق کی کہانی
اسی طرح، گل پلازہ میں لاپتا ٹیکسٹائل فیکٹری کا سینیئر منیجر محمد رفیق 3 بچوں کا باپ اور چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ ناظم آباد فردوش کالونی کے رہائشی نے دکان کرایہ پر دے رکھی تھی۔
رفیق کے والد اور بھائی تو پلازہ سے باہر نکل گئے، لاپتا رفیق اپنے والد کو ایک اور دکان خریدنے کے حوالے سے سرپرائز دینے آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سمہ سٹہ، چھوٹا، غیر معروف اور تھکا ماندہ ریلوے جنکشن ہے، اب تو شاید اسے کوئی جانتا بھی نہ ہو، تقسیمِ ہند سے قبل اس پر خوب رونق ہوتی تھی۔
شہروز اقبال کا جنازہ
سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق شہروز اقبال کا جنازہ ادا کر دیا گیا، شہروز اقبال کی پلازہ میں کراکری کی دکان تھی جس کا 4 سالہ بیٹا بھی ہے۔
فیضان کی گمشدگی
اس کے علاوہ، 16 سالہ فیضان بھی لاپتا ہے، جس کی والدہ اپنے بیٹے کی خیر و عافیت واپسی کے لیے دعا گو ہیں۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہیں اللہ سے امید ہے۔








