سانحہ گل پلازہ، انسانی باقیات کا ڈی این اے ٹیسٹ اور فرانزک کہاں ہورہا ہے؟ ورثاء، سیاسی، مذہبی جماعتوں اور تاجروں کو اعتماد میں لیا جائے، فاروق ستار

سانحہ گل پلازہ کی تحقیقاتی طلب

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار کا کہنا ہے کہ سانحہ گل پلازہ سے ملنے والی انسانی باقیات کا ڈی این اے ٹیسٹ اور فرانزک کہاں ہو رہا ہے؟ ورثاء، سیاسی، مذہبی جماعتوں اور تاجروں کو اعتماد میں لیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: 9 مئی کو ملک گیر فسادات برپا کرنے والے ایک مرتبہ پھر سے پر تشدد کارروائیاں کر رہے ہیں: شہباز شریف

یک خاندان کے چار افراد کی نماز جنازہ

دہلی کالونی میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ ایک المناک قومی سانحہ ہے جس میں 100 سے زیادہ قیمتی جانیں اور اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ پورا ملک اس سانحہ پر سوگوار ہے، ہر آنکھ اشک بار ہے۔ آج یہاں سے 4 جنازے اٹھے ہیں، جبکہ اس کالونی میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد شہید ہوئے، 4 کا جسد خاکی ڈی این اے سے میچ ہوگیا ہے اور 2 باقی ہیں؛ ایک بیٹی بچی ہے اور پورا خاندان شہید ہوگیا، شادی کے گھر کی خوشیاں خاک میں مل گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: اگر آپ کا کوئی پیارا گم ہو جائے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اب پنجاب حکومت اسے ڈھونڈ کر لائے گی۔

ڈی این اے ٹیسٹ اور فرانزک کی تحفظات

انہوں نے کہا کہ یہ بتایا جائے کہ ٹیسٹ اور فرانزک کہاں ہورہا ہے؟ باقیات کا احترام اور تقدس کے ساتھ فارنزک ٹیسٹ کیا جائے۔ لواحقین صرف یہ چاہتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور میئر کراچی دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں اور تاجر تنظیموں کو اعتماد میں لیں اور لاپتا افراد کے اہل خانہ کو مطمئن کریں۔ گنتی پوری کیے بغیر سکون نہیں ملے گا اور اہل خانہ لواحقین کے لیے صبر کی دعا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں روکنے کے لیے ڈرون استعمال کرنے کا فیصلہ

غفلت اور تحفظات کا اظہار

فاروق ستار نے کہا کہ ایک دکان سے 30 لاشیں مل سکتی ہیں تو یہ رش کا وقت تھا، بہت سے لوگوں کی رجسٹریشن نہیں ہوئی۔ اندرون ملک سے آنے والے محنت کشوں کے لواحقین کو تو معلوم بھی نہیں ہوگا۔ 2 ٹرکوں کی باقیات کا چوری ہونا تشویش ناک ہے۔ بہت سے سوالات ہیں جن کا جواب دینا ہے۔ لاپتا افراد کے اہل خانہ کی تسلی کے لیے ضروری ہے کہ انہیں مطمئن کیا جائے، ان کی تسلی و تشفی کے لیے فرانزک کی ویڈیو سامنے لائی جائے۔ باقیات کی تصدیق اور جسد اہل خانہ تک پہنچانے کے کام میں تیزی لائی جائے۔ جیسا کہ گورنر ہاؤس میں رابطہ مرکز بنایا گیا ہے، اس طرح وزیراعلیٰ اور میئر کے دفتر میں بھی مراکز قائم کریں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب یونیورسٹی میں لاء کے داخلوں پر پابندی عائد

تحقیقات کی ضرورت اور مطالبات

ان کا کہنا تھا کہ کمشنر کراچی سرکاری ملازم ہیں اور وہ کیسے رپورٹ دیں گے کہ حکومت سندھ یا بلدیاتی اداروں کی غفلت ہے؟ تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بنائی جائے، آئی ایس آئی اور ایف آئی اے پر مشتمل آزاد اور غیر جانب دار کمیشن سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں قائم کیا جائے۔ کمشنر کی سربراہی کی تحقیقات کو کوئی نہیں مانے گا۔

مسئلہ کی سنجیدگی اور عوامی مطالبے

ان کا کہنا تھا کہ یہ سنگین معاملہ ہے۔ میری، عبدالستار افغانی یا نعمت اللّہ صاحب کی میئرشپ کے دور میں ریگولر ایڈیشن قانونی ہوئیں۔ اگر کوئی غیر قانونی عمل ہو تو احتساب کے لیے خود کو پیش کرتا ہوں۔ مگر آپ جواب دیں، آگ کیوں نہ بجھائی گئی؟ عوام سزا نہیں دے سکتے، ہوسکتا ہے کہ شفاف تحقیقات سے آپ سدھر جائیں۔ فائر فائٹرز کی جانوں کو بچایا جائے۔ فائر فائٹر فرقان کے گھر وزیراعلیٰ اور میئر کیوں نہ گئے؟ جو لوگ فرقان کے گھر نہیں گئے، انہیں جانا چاہیے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...