موسم کوئی فصل نہیں — یہ فطرت کا فیصلہ ہے
تحریر کا آغاز
تحریر: ملک محمد اسحاق
گزشتہ ہفتے مجھے العین جانے کا موقع ملا۔
وہاں بسنت کو صرف دیکھا نہیں، محسوس کیا۔
ہوا میں ایک خاموش سا پیغام تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان سمیت 75 ممالک کے ویزے معطل، ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت میں چیلنج
سردی کا بوجھ اور بہار کی دستک
یوں لگتا تھا جیسے متحدہ عرب امارات میں سردی اپنا بوجھ اتار چکی ہے اور بہار آہستہ آہستہ زمین کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔
پتوں کے بدلتے رنگوں نے جیسے دل میں سوال جگا دیا۔
موسم گویا بول رہا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت چاہتی ہے کہ مہنگائی کم کی جائے لیکن آئی ایم ایف نے اجازت نہیں دی، رانا ثنا اللہ
فطرت کا پیغام
فطرت جیسے کہہ رہی ہو کہ ہر اختتام انجام نہیں ہوتا،
کبھی کبھی وہ محض ایک نئے سفر کی ابتدا ہوتا ہے۔
اسی لمحے موسم پر غور شروع ہوا،
اور یہی غور اس تحریر کی بنیاد بنا۔
یہ بھی پڑھیں: مریم نواز شریف ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ گئیں
موسم اور فطرت
ہمیں بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ موسم ایک کیلنڈر ہے:
گرمی، سردی، خزاں، بہار — چار خانے، چار حد بندیاں۔
مگر فطرت نے کبھی نصابی جدولوں میں رہنا قبول نہیں کیا۔
موسم محض درجۂ حرارت کا نام نہیں۔
یہ ایک ہدایت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان جا کر ایسا لگا کہ کینیڈا میں گھوم رہے ہیں: گپی گریوال
خزاں کا پیغام
جب خزاں سائبیریا، اسکینڈینیویا، شمالی یورپ، کینیڈا یا الاسکا میں اترتی ہے تو یہ اداسی نہیں لاتی بلکہ شعور جگاتی ہے۔
یہ ایک اشارہ ہوتی ہے،
ایک تنبیہ،
کبھی اجازت،
اور کبھی صاف حکم۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کیریئر مینٹور معصومہ اعجاز کو یونائیٹڈ نیشنز بنکاک میں گلوبل پیس ایوارڈ سے نوازا گیا
فطرت کی قربانی
درخت پتے نہیں کھوتے،
وہ انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔
پرندے سردی سے نہیں بھاگتے،
وہ ایک ایسے نقشے کی پیروی کرتے ہیں جو سرحدوں، شہروں اور زبانوں سے بہت پہلے وجود میں آ چکا تھا۔
یوں موسم دراصل زمین پر قدرت کی تحریر بن جاتا ہے۔
بہار اس تحریر کا دوسرا رخ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران میں آٹھ پاکستانی قتل
بہار کا زیور
بہار کسی میں فرق نہیں کرتی۔
نہ درخت کی عمر پوچھتی ہے،
نہ شاخ کا زخم۔
نئے پتے،
تازہ پھول،
اور ایسی خوشبو جو طب سے پہلے شفا تھی —
یہ سب بہار کی عطا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر قادر اوزقایا کی وفد کے ہمراہ وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات، باہمی دلچسپی اور شراکت داری کے مواقع پر تبادلہ خیال
خزاں کی آمد
مگر بہار ٹھہرتی نہیں۔
اس لیے نہیں کہ وہ ناکام ہو جاتی ہے،
بلکہ اس لیے کہ مسلسل عطا، اللہ رب العزت کے سوا، عطا کرنے والے کو تھکا دیتی ہے۔
یوں خزاں آتی ہے —
ظلم بن کر نہیں،
قربانی بن کر۔
یہ بھی پڑھیں: اسکولوں میں بچوں کے موبائل فون استعمال کرنے پر پابندی کی قرارداد منظور
فطرت کا اعلان
خزاں اور سرما میں درخت ننگے کھڑے ہو جاتے ہیں،
پرندے گھونسلے چھوڑ دیتے ہیں،
جنگل خاموش ہو جاتے ہیں،
اور انسان لکڑی کاٹ کر آگ جلاتا ہے۔
درخت احتجاج نہیں کرتے۔
یہ فطرت کا اعلان ہے کہ
“میں تکلیف سہوں گی تاکہ زندگی باقی رہے۔”
یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد میں نشے میں دھت ایمبولینس ڈرائیور نے کار کو ٹکر مار دی، 2 افراد جاں بحق، 7 زخمی ہو گئے
علم کی طلب
تصوف اسے فنا کہتا ہے،
دین اسے قربانی،
اور فلسفہ اسے خود کو خالی کرنا قرار دیتا ہے۔
یہ وہ سبق ہے جو انسان اکثر وعظ میں بھول جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پشین میں بہادر سپوتوں نے بروقت کارروائی کرکے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا: محسن نقوی
ہجرت کی حکمت
جب شمالی خطوں میں سردی شدید ہو جاتی ہے تو پرندے گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔
وہ ہجرت کرتے ہیں۔
بار ٹیلڈ گاڈوِٹ، آرکٹک ٹرن، امور فالکن اور ریڈ ناٹ جیسے پرندے ہزاروں میل کا سفر طے کرتے ہیں،
بلا پاسپورٹ،
بلا نقشہ،
بلا موسم ایپ۔
فطرت انہیں ہوا کے راستے دیتی ہے،
مقناطیسی سمتیں سکھاتی ہے،
اور ستاروں کو رہنما بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کا امکان ہے: آئی ایم ایف
سفر کی حقیقت
کچھ طوفانوں میں کھو جاتے ہیں،
کچھ شکاریوں کا شکار بنتے ہیں،
مگر ہجرت نہیں رکتی۔
کیونکہ یقین ختم ہو جائے تو بھی سفر باقی رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور نے کچھ چیزیں کرنے سے انکار کیا، اس لیے ان کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو لایا گیا، رانا ثناء اللّٰہ
حفاظت کا پیغام
سمندر بھی موسم سنتا ہے۔
وہیلیں، کچھوے اور سالمَن مچھلیاں درجۂ حرارت، خوراک اور نسل کی حفاظت کے لیے ہزاروں میل کا سفر کرتی ہیں۔
یہ رومان نہیں،
یہ حیاتیاتی ذمہ داری ہے۔
خشکی پر بھی یہی قانون نافذ ہے۔
جب بارش رکتی ہے اور گھاس سوکھ جاتی ہے تو ہرن، زیبرا، وائلڈبیسٹ اور ہاتھی چل پڑتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عالیہ حمزہ کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع
سفر کا عزم
راستے میں درندے بھی ہیں،
قحط بھی،
اور انسان بھی۔
کچھ گرتے ہیں،
مگر قافلہ نہیں رکتا۔
کیونکہ رک جانا فنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بابراعظم کی خراب پرفارمنس میں ہم سب کا بھی قصور ہے، اظہر علی نے جیو پوڈ کاسٹ میں گفتگو
انسانی ہجرت
پرندے ہوں یا جانور،
سمندر کی مخلوق ہو یا خشکی کی —
سب ایک ہی اصول کے تابع ہیں:
آنے والی نسل کی حفاظت۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے کو فروری 2026 تک فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کا ہدف دیدیا گیا
انسان کا سوال
یہاں انسان کا سوال جنم لیتا ہے۔
اگر پرندے براعظم پار کر سکتے ہیں،
اگر وہیل سمندر عبور کر سکتی ہیں،
اگر جانور زمین چھوڑ سکتے ہیں —
تو انسان ہجرت سے کیوں گھبراتا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: جسٹس سرفراز ڈوگر نے بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ حلف اٹھا لیا
فطری انتخاب
اگر زمین سرسبز ہو، امن ہو، روزگار ہو تو ٹھہرنا فطری ہے۔
لیکن اگر قحط ہو، خطرہ ہو اور عزت داؤ پر لگ جائے تو چل پڑنا دانش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈیا میں ہائیکورٹس ججز کی سنیارٹی لسٹ ایک ہی ہے؛ سپریم کورٹ نے ججز تبادلہ کیس میں سنجیدہ سوالات اٹھا دیے
اسلامی تعلیمات
اسلام نے بھی یہی سکھایا۔
رسولِ اکرم ﷺ نے کامل وقار، حکمت اور الٰہی رہنمائی کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی ہجرت فرمائی۔
یہ کمزوری نہیں تھی،
یہ بقا اور مستقبل کی بنیاد تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پراپرٹی اونر شپ آرڈیننس ایکٹ کی صورت اختیار کر چکا: عظمیٰ بخاری
زندگی کا سفر
آخر میں بس یہی حقیقت سامنے آتی ہے:
کچھ منزل تک پہنچ جاتے ہیں،
کچھ راستے میں رہ جاتے ہیں،
مگر زندگی رکتی نہیں۔
کیونکہ زندگی خوف پر نہیں،
حرکت پر یقین رکھتی ہے۔
موسم ظلم نہیں۔
ہجرت کمزوری نہیں۔
اور سفر فرار نہیں۔
سفر زندگی کی اطاعت ہے،
اور جو حکمت، وقت اور حوصلے کے ساتھ چل پڑتا ہے —
وہی آنے والے کل کا وارث بنتا ہے۔
نوٹ
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں








