موسم کوئی فصل نہیں — یہ فطرت کا فیصلہ ہے
تحریر کا آغاز
تحریر: ملک محمد اسحاق
گزشتہ ہفتے مجھے العین جانے کا موقع ملا۔
وہاں بسنت کو صرف دیکھا نہیں، محسوس کیا۔
ہوا میں ایک خاموش سا پیغام تھا۔
یہ بھی پڑھیں: چینی باشندوں پر حملہ: تفتیشی حکام نے حملہ آور سے منسلک ویڈیو حاصل کرلی
سردی کا بوجھ اور بہار کی دستک
یوں لگتا تھا جیسے متحدہ عرب امارات میں سردی اپنا بوجھ اتار چکی ہے اور بہار آہستہ آہستہ زمین کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔
پتوں کے بدلتے رنگوں نے جیسے دل میں سوال جگا دیا۔
موسم گویا بول رہا ہو۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں آج تیسرے دن بھی نان بائیوں کی ہڑتال، ایسوسی ایشن کا ہڑتال کا دائرہ پنجاب بھر میں پھیلانے کا اعلان
فطرت کا پیغام
فطرت جیسے کہہ رہی ہو کہ ہر اختتام انجام نہیں ہوتا،
کبھی کبھی وہ محض ایک نئے سفر کی ابتدا ہوتا ہے۔
اسی لمحے موسم پر غور شروع ہوا،
اور یہی غور اس تحریر کی بنیاد بنا۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں تاریخی فتح پر ملک بھر میں یوم تشکر، افواجِ پاکستان کو خراج تحسین
موسم اور فطرت
ہمیں بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ موسم ایک کیلنڈر ہے:
گرمی، سردی، خزاں، بہار — چار خانے، چار حد بندیاں۔
مگر فطرت نے کبھی نصابی جدولوں میں رہنا قبول نہیں کیا۔
موسم محض درجۂ حرارت کا نام نہیں۔
یہ ایک ہدایت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رابعہ انعم کی نئی ویڈیو پر سوشل میڈیا پر بحث، صارفین کی ملا جلا ردعمل
خزاں کا پیغام
جب خزاں سائبیریا، اسکینڈینیویا، شمالی یورپ، کینیڈا یا الاسکا میں اترتی ہے تو یہ اداسی نہیں لاتی بلکہ شعور جگاتی ہے۔
یہ ایک اشارہ ہوتی ہے،
ایک تنبیہ،
کبھی اجازت،
اور کبھی صاف حکم۔
یہ بھی پڑھیں: فضل الرحمان نے حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا عندیہ دیدیا
فطرت کی قربانی
درخت پتے نہیں کھوتے،
وہ انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔
پرندے سردی سے نہیں بھاگتے،
وہ ایک ایسے نقشے کی پیروی کرتے ہیں جو سرحدوں، شہروں اور زبانوں سے بہت پہلے وجود میں آ چکا تھا۔
یوں موسم دراصل زمین پر قدرت کی تحریر بن جاتا ہے۔
بہار اس تحریر کا دوسرا رخ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے صدر نے شہبازشریف کو بتایا کہ سپریم لیڈر نے گیس پائپ لائن پر مزید قانونی کارروائی سے روکدیا ہے اور بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کی : حامد میر
بہار کا زیور
بہار کسی میں فرق نہیں کرتی۔
نہ درخت کی عمر پوچھتی ہے،
نہ شاخ کا زخم۔
نئے پتے،
تازہ پھول،
اور ایسی خوشبو جو طب سے پہلے شفا تھی —
یہ سب بہار کی عطا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی اداکار رنویر سنگھ کی فلم میں بینظیر بھٹو کی تصویر اور پیپلز پارٹی کے جھنڈے کا استعمال
خزاں کی آمد
مگر بہار ٹھہرتی نہیں۔
اس لیے نہیں کہ وہ ناکام ہو جاتی ہے،
بلکہ اس لیے کہ مسلسل عطا، اللہ رب العزت کے سوا، عطا کرنے والے کو تھکا دیتی ہے۔
یوں خزاں آتی ہے —
ظلم بن کر نہیں،
قربانی بن کر۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کو مائنس کرنے والے آج خود مائنس ہو گئے: مریم نواز
فطرت کا اعلان
خزاں اور سرما میں درخت ننگے کھڑے ہو جاتے ہیں،
پرندے گھونسلے چھوڑ دیتے ہیں،
جنگل خاموش ہو جاتے ہیں،
اور انسان لکڑی کاٹ کر آگ جلاتا ہے۔
درخت احتجاج نہیں کرتے۔
یہ فطرت کا اعلان ہے کہ
“میں تکلیف سہوں گی تاکہ زندگی باقی رہے۔”
یہ بھی پڑھیں: جمہوریت کی بحالی میں بیگم نصرت بھٹو کی خدمات ناقابل فراموش ہیں: صدر مملکت
علم کی طلب
تصوف اسے فنا کہتا ہے،
دین اسے قربانی،
اور فلسفہ اسے خود کو خالی کرنا قرار دیتا ہے۔
یہ وہ سبق ہے جو انسان اکثر وعظ میں بھول جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقت پھر تبدیل
ہجرت کی حکمت
جب شمالی خطوں میں سردی شدید ہو جاتی ہے تو پرندے گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوتے۔
وہ ہجرت کرتے ہیں۔
بار ٹیلڈ گاڈوِٹ، آرکٹک ٹرن، امور فالکن اور ریڈ ناٹ جیسے پرندے ہزاروں میل کا سفر طے کرتے ہیں،
بلا پاسپورٹ،
بلا نقشہ،
بلا موسم ایپ۔
فطرت انہیں ہوا کے راستے دیتی ہے،
مقناطیسی سمتیں سکھاتی ہے،
اور ستاروں کو رہنما بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کو کہیں نہ کہیں دشمن ملک سے سپورٹ مل رہی ہے: سعید غنی
سفر کی حقیقت
کچھ طوفانوں میں کھو جاتے ہیں،
کچھ شکاریوں کا شکار بنتے ہیں،
مگر ہجرت نہیں رکتی۔
کیونکہ یقین ختم ہو جائے تو بھی سفر باقی رہتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی تقرری پر جے یو آئی رہنما حافظ حمداللہ کا بیان
حفاظت کا پیغام
سمندر بھی موسم سنتا ہے۔
وہیلیں، کچھوے اور سالمَن مچھلیاں درجۂ حرارت، خوراک اور نسل کی حفاظت کے لیے ہزاروں میل کا سفر کرتی ہیں۔
یہ رومان نہیں،
یہ حیاتیاتی ذمہ داری ہے۔
خشکی پر بھی یہی قانون نافذ ہے۔
جب بارش رکتی ہے اور گھاس سوکھ جاتی ہے تو ہرن، زیبرا، وائلڈبیسٹ اور ہاتھی چل پڑتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: برسلز میں سہیل وڑائچ موجود تھے، انہوں نے اپنے تجسس پر کالم لکھا لیکن وی لاگ اور پوڈ کاسٹ سے بات بڑھائی گئی، راناثنااللہ
سفر کا عزم
راستے میں درندے بھی ہیں،
قحط بھی،
اور انسان بھی۔
کچھ گرتے ہیں،
مگر قافلہ نہیں رکتا۔
کیونکہ رک جانا فنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں فوجی مشقوں کے دوران ٹینک نہر میں ڈوبنے سے فوجی ہلاک ہو گیا
انسانی ہجرت
پرندے ہوں یا جانور،
سمندر کی مخلوق ہو یا خشکی کی —
سب ایک ہی اصول کے تابع ہیں:
آنے والی نسل کی حفاظت۔
یہ بھی پڑھیں: رابعہ کلثوم نے بھارت میں کام کرنے والے پاکستانی فنکاروں کو چپیڑیں مارنے کا اعلان کردیا
انسان کا سوال
یہاں انسان کا سوال جنم لیتا ہے۔
اگر پرندے براعظم پار کر سکتے ہیں،
اگر وہیل سمندر عبور کر سکتی ہیں،
اگر جانور زمین چھوڑ سکتے ہیں —
تو انسان ہجرت سے کیوں گھبراتا ہے؟
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ سے 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ کل منظور ہونے کا امکان
فطری انتخاب
اگر زمین سرسبز ہو، امن ہو، روزگار ہو تو ٹھہرنا فطری ہے۔
لیکن اگر قحط ہو، خطرہ ہو اور عزت داؤ پر لگ جائے تو چل پڑنا دانش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی زیرصدارت سیاسی و عسکری قیادت کا اہم اجلاس، مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال
اسلامی تعلیمات
اسلام نے بھی یہی سکھایا۔
رسولِ اکرم ﷺ نے کامل وقار، حکمت اور الٰہی رہنمائی کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی ہجرت فرمائی۔
یہ کمزوری نہیں تھی،
یہ بقا اور مستقبل کی بنیاد تھی۔
یہ بھی پڑھیں: لندن روانگی سے قبل عملے کا ایک نوجوان رکن طیارے میں نہ آیا، ساتھیوں نے ہوٹل میں جا کر دیکھا تو ایسا منظر کہ پیروں تلے زمین نکل گئی
زندگی کا سفر
آخر میں بس یہی حقیقت سامنے آتی ہے:
کچھ منزل تک پہنچ جاتے ہیں،
کچھ راستے میں رہ جاتے ہیں،
مگر زندگی رکتی نہیں۔
کیونکہ زندگی خوف پر نہیں،
حرکت پر یقین رکھتی ہے۔
موسم ظلم نہیں۔
ہجرت کمزوری نہیں۔
اور سفر فرار نہیں۔
سفر زندگی کی اطاعت ہے،
اور جو حکمت، وقت اور حوصلے کے ساتھ چل پڑتا ہے —
وہی آنے والے کل کا وارث بنتا ہے۔
نوٹ
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں








