نظام المدارس پاکستان کے بورڈ آف گورنرز کا سالانہ اجلاس،مختصر عرصہ میں انقلابی تدریسی اصلاحات کیں:خرم نواز گنڈاپور
اجلاس کا انعقاد
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) نظام المدارس پاکستان کے بورڈ آف گورنرز کا سالانہ اجلاس ڈپٹی چیئرمین خرم نواز گنڈاپور کی زیر صدارت ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: سیف سٹی لاہور کا زبردست اقدام، فری چارجنگ اور سیکورٹی پولز نصب
طلباء کی ترقی کے لئے اقدامات
اجلاس میں ناظم اعلیٰ نظام المدارس پاکستان ڈاکٹر میر آصف اکبر نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مدارس دینیہ میں زیر تعلیم طلباء کو قومی، تعلیمی و ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لئے "Navttc" کے ذریعے سے زائد ٹیکنیکل کورسز کروائے گئے ہیں تاکہ یہاں سے فارغ التحصیل طلباء دین اور پاکستان کی خدمت کرنے کیساتھ ساتھ باعزت روزگار بھی حاصل کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ڈرون گرانے کے لیے میزائل ڈیفنس سسٹم کیوں نہیں چلایا گیا؟ سب سے زیادہ پوچھے جانے والے سوال کا جواب مل گیا۔
مدارس کی پیشہ وارانہ تربیت
انہوں نے بتایا کہ ڈی جی آر ای کے تعاون سے ملک بھر میں سینکڑوں مدرسین کی پیشہ وارانہ تربیت کا اہتمام کیا گیا۔ اس کے علاوہ مدارس کے الحاق کا نظام بھی مکمل ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے۔ امتحانی نظام کو شفاف بنانے کے لیے ویڈیو لنک کے ذریعے آن لائن مانیٹرنگ کا نظام متعارف کروایا گیا ہے جو مدارس دینیہ کی تاریخ میں پاکستان میں اپنی نوعیت کا ایک پہلا کامیاب تجربہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر امجد ملک کی صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری سے ملاقات ،میڈیا کے طالبعلموں کیلیے اہم اعلان کر دیا
غیر نصابی سرگرمیاں اور پوزیشن ہولڈرز کی حوصلہ افزائی
مدارس دینیہ کے طلباء کو قومی دھارے میں شامل رکھنے کے لیے تدریسی و تکنیکی تعلیم کیساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ زیر تعلیم طلباء کو شجر کاری مہمات، جشن آزادی تقریبات، سیرت النبیؐ کانفرنسز، تقریری مقابلہ جات اور سپورٹس سرگرمیوں میں شامل کیا گیا ہے اور ملک گیر امن کانفرنسز منعقد کر کے طلباء میں امن کی ضرورت و اہمیت کا شعور اجاگر کیا گیا۔ سالانہ امتحان میں پوزیشن ہولڈرز طلباء کی حوصلہ افزائی کے لئے انہیں کیش پرائز، میڈلز اور اسناد بھی دی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: رائٹ سائزنگ، نیب نے بڑا فیصلہ کر لیا
منتظمین کا اعتراف
انہوں نے بورڈ کو بتایا کہ نظام المدارس کے ذمہ دارانہ تدریسی و انتظامی کردار کے اعتراف میں ڈی جی آر ای کے تحت 20ہزار رجسٹرڈ مدارس جن میں 7 انسٹی ٹیوٹس بھی شامل ہیں کا ایک مشترکہ فورم متحدہ مدارس کونسل پاکستان تشکیل دیا گیا ہے، قومی سطح پر جس کی متفقہ ترجمانی نظام المدارس پاکستان کو دی گئی ہے۔ 2500 سے زائد مدارس دینیہ نے الحاق کیا ہے اور رواں سال ایک لاکھ 17ہزار 255 طلباء نے مختلف مدارج کے امتحانات میں حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس ہائیکورٹ کی تقرری کیلئے نامزدگی 3 سینئر ترین ججز میں سے ہوگی: مجوزہ ججز تقرری رولز جاری
مدارس میں اصلاحات
انہوں نے مزید بتایا کہ نظام المدارس پاکستان پہلا دینی وفاق ہے جو گزشتہ 5 برسوں سے درس نظامی، تجوید و قرأت اور حفظِ قرآن کے اساتذہ کی مرکزی، زونل اور ڈویژنل سطح پر ٹریننگز کا اہتمام کررہا ہے۔ نظام المدارس نے قلیل مدت میں مکمل انتظامی امور سنٹرل مینجمنٹ سسٹم پر منتقل کر کے پیپر لیس دفتری نظام قائم کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں بھنگ کے کاشت کاروں کے گرد گھیرا تنگ، ملوث زمینداروں کی فہرست تیارکر لی گئی
چیئرمین کا اظہار اطمینان
ڈپٹی چیئرمین خرم نواز گنڈاپور نے بریفنگ پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ مدارس دینیہ کے طلباء کو قومی، تعلیمی دھارے میں شامل کرنے کے حوالے سے نظام المدارس پاکستان کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ مختصر عرصے میں مدارس دینیہ کے اندر انقلابی تدریسی اصلاحات متعارف کروائی گئیں جس پر جملہ منتظمین مبارکباد کے مستحق ہیں۔
اجلاس میں شریک افراد
اجلاس میں صدر مفتی غلام اصغر صدیقی، علامہ بدالزمان قادری، ڈاکٹر ممتاز الحسن باروی، علامہ عین الحق بغدادی، ڈاکٹر خرم شہزاد، ڈاکٹر محمد فاروق رانا، ڈاکٹر علی وقار قادری، عظمت علی قادری، اشفاق علی چشتی، قاضی فیض الاسلام نے شرکت کی۔ مفتی مکرم خان قادری نے زوم لنک پر کراچی سے اور سیدہ اختر کلثوم نے فیصل آباد سے شرکت کی۔








