ملکی پیٹرولیم کمپنی نے 47 ارب کی لیوی چوری تسلیم کر لی
کراچی: ملکی پیٹرولیم کمپنی کی لیوی چوری کا اعتراف
کراچی (ویب ڈیسک) ملکی پیٹرولیم کمپنی نے 47 ارب کی لیوی چوری تسلیم کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: قصور؛ ادھار کی رقم واپس مانگنے پر ملزم نے دکاندار کا گلا کاٹ دیا
ایف آئی اے کی انکوائری: ایک ارب کی رقم جمع
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کی انکوائری کے بعد ملکی پیٹرولیم کمپنی نے سرکاری خزانے میں ایک ارب روپے کی رقم جمع کرادی جبکہ بقیہ رقم کی ادائیگی کے لئے چیکس اور پراپرٹی کو گارنٹی کے طور پر جمع کروادیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے کان کنی کی صنعت میں پہلا گولڈ سرٹیفکیشن حاصل کرلیا
13 ملزمان نامزد
ایف آئی اے کی انکوائری میں سابق سی ای او کے الیکٹرک تابش گوہر سمیت 13 ملزمان نامزد ہیں، زیادہ تر ملزمان کے بیانات قلمبند ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے کے کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی میں کیس انکوائری نمبر 03/2023 کے تحت پیٹرولیم کمپنی کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ پیٹرولیم لیوی کی عدم ادائیگی کی انکوائری جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایئر بلیو 2010 طیارہ حادثہ؛ نجی ایئر لائن کو 5ارب سے زائد کی رقم بطور ہرجانہ ادا کرنے کا حکم
پیٹرولیم لیوی کی عدم ادائیگی کی تفصیلات
انکوائری کے مطابق کمپنی نے 2019 سے 2022 کے دوران وفاقی حکومت کو 33.6 ملین روپے کی پیٹرولیم لیوی مبینہ طور پر ادا نہیں کی جبکہ مارچ 2023 تک واجبات بڑھ کر 47 ارب روپے تک پہنچ گئے تھے۔ انکوائری میں 2019 تا مارچ 2023 کے دوران کمپنی کی مینجمنٹ اور بورڈ سے تعلق رکھنے والے 13 افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔
نامزد افراد کی فہرست
نامزد افراد میں امیر عباسی، عامر عباسی، اسامہ قریشی، امیر وحید احمد، محمد علی الدین اے، سید حسن زیدی، عظمیٰ عباسی، محمد وصی خان، اختر حسین ملک، سید ارشد رضا، محمد یاسین خان، تابش گوہر اور اسماء شیخ شامل ہیں۔








