حلقہ پی بی 21 کیس، وفاقی آئینی عدالت نے محمد صالح بھوتانی کامیاب قرار دیدیا
وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی اکیس میں انتخابی عذرداری کا فیصلہ سناتے ہوئے محمد صالح بھوتانی کو دوبارہ منتخب قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سونا 4300روپے فی تولہ مہنگا
چیف جسٹس اور تین رکنی بینچ کی کاروائی
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 حب میں انتخابی عذرداری کا فیصلہ سنایا اور بلوچستان عوامی پارٹی کے محمد صالح بھوتانی کو دوبارہ منتخب ایم پی اے قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سابق گرل فرینڈ اور اس کے موجودہ بوائے فرینڈ کو قتل کرنے کے بعد شہری نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔
ری کاؤنٹنگ کی درخواست اور سپریم کورٹ کا فیصلہ
چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 29 جنوری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار علی حسن زہری کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے انتالیس پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف محمد صالح بھوتانی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے بیس نومبر دوہزارچوبیس کو ری کاؤنٹنگ کی تمام کارروائیاں کالعدم قرار دی تھیں، لیکن الیکشن کمیشن نے اسے بحال کر کے علی حسن زہری کو کامیاب قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پاکستان کی تاریخ کی پہلی ای ٹیکسی سکیم کا باضابطہ افتتاح کر دیا
ہائی کورٹ میں درخواست اور وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
محمد صالح بھوتانی نے اس فیصلے کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، تاہم ہائی کورٹ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی۔ بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے الیکشن کمیشن کے ری کاؤنٹنگ کے حکم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی تسلیم کی۔
نتیجہ اور بحالی
بلوچستان ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیا اور علی حسن زہری کو پی بی اکیس حب کے ایم پی اے کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت نے نو فروری 2024 کی اصل انتخابی پوزیشن بحال کرتے ہوئے محمد صالح بھوتانی کو دوبارہ منتخب ایم پی اے قرار دیا۔








