نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن وزارت خزانہ کو بجھوا دیا ہے: گورنر اسٹیٹ بینک
نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہنا ہے کہ نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن منظوری کے بعد اسٹیٹ بینک بورڈ نے وزارت خزانہ کو بجھوا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مری میں 25 دسمبر اور نیو ائیر پر دفعہ 144 نافذ کردی گئی
نئی معلومات کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک نے نئے کرنسی نوٹوں سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن اسٹیٹ بینک بورڈ نے منظوری کے بعد وزارت خزانہ کو بجھوا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر صالح بن سعد المربہ کا جدہ کے شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پاسپورٹ ہالز کا معائنہ، آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا
حکومتی منظوری اور 5000 روپے کا نوٹ
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی منظوری کے بعد نئے کرنسی نوٹ جاری کیے جائیں گے جبکہ 5 ہزار روپے کا نوٹ ختم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ن لیگ کا اب سیاست سے کوئی تعلق نہیں، ووٹ لے کر آتے تو عوام کی پریشانی ہوتی: اسد عمر
سپر ٹیکس کی چیلنجز
اس دوران سینٹر عبدالقادر کا کہنا تھا کہ لوگ تین چار سال کا سپر ٹیکس کیسے دیں گے، اس طرح تو آپ لوگوں کو ملک سے نکال رہے ہیں، ایف بی آر جس طرح ہراساں کر رہا ہے وہ درست نہیں ہے، لوگوں سے فوری ٹیکس ادائیگی کی بجائے اس ٹیکس کی وصولی دو تین سال میں کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں میں ہمیں بہترین کامیابی ملی، ایران کو ہر صورت امن قائم کرنا ہو گا: ڈونلڈ ٹرمپ
آئینی عدالت کے فیصلے اور دباؤ
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اجلاس میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا آئینی عدالت نے تو کہہ دیا کہ سپر ٹیکس پارلیمان کا اختیار ہے لیکن اس سے لوگوں پر دباؤ اور بوجھ بڑھا ہے، ایک ہی کلاس سے بار بار ٹیکس ریونیو سے اضافہ کوئی ریوینیو ماڈل نہیں ہے۔
چیئرمین ایف بی آر کا بیان
اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو کچھ کیسز میں سپر ٹیکس کی اقساط بھی کر دیں گے، سپر ٹیکس کی کل وصولی 217 ارب روپے بنتی ہے، ٹیکس دہندگان کا ٹیلی فون پر پیغام بھیجنے سے ان کی تعداد میں 10 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ جس پر وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ انہیں بھی ایف بی آر کا پیغام ملا ہے۔








