وفاقی محتسب نے کنوارے ہونے کی بنیاد پر رہائشی سہولت سے محروم کرنا غیرقانونی قرار دیا
وفاقی محتسب کا تاریخی فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ دینے والی وفاقی محتسب (فوسپاہ) نے کنوارے مردوں اور خواتین کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے سے متعلق تمام قوانین کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حکمران شہریوں کو نجکاری اور پرائیویٹ سیکٹر کے ظالمانہ شکنجے کے حوالے نہ کریں: لیاقت بلوچ
غیر قانونی پالیسیوں کی مذمت
وفاقی محتسب نے پاکستان کے کرایہ داری قوانین سے متعلق تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیچلرز مردوں اور خواتین کو رہائشی سہولت سے محروم کرنے والی کسی بھی قسم کی پالیسی یا روایت غیرقانونی، امتیازی سلوک پر مبنی اور ابتداء ہی سے کالعدم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طیارے گرنے کے اعتراف کے بعد بھارتی صحافی مودی سرکار اور فوج پر برس پڑے
درخواست کی تفصیلات
یہ فیصلہ اسلام آباد میں واقع ایک نجی رہائشی عمارت کی انتظامیہ کے خلاف ثناء ہمایوں خان نامی خاتون کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کے بعد سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف سعودی سکالر نے مسلمانوں کیلئے غیر مسلم ملک کی شہریت لینا حرام قرار دے دیا
ہراسانی اور امتیازی رویے کی مذمت
درخواست گزار نے شکایت میں الزام عائد کیا تھا کہ رہائشی عمارت کی انتظامیہ نے انہیں مسلسل ہراساں کیا، دباؤ ڈالا اور امتیازی رویہ اختیار کیا۔ اپنی بہن کے ساتھ پُرامن طور پر رہائش اور کرایہ داری کی تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود انہیں بار بار اس بنیاد پر نشانہ بنایا گیا کہ یہاں کنوارے نہیں رہ سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ لڑکیاں گجراتی رقص پیش کریں گی، پورا ہال جھوم اٹھا،ہمیں یوں لگا جیسے کوئی خوبصورت تتلی سٹیج کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک اْڑتی پھر رہی ہو
فوسپاہ کا نوٹس
فوسپاہ نے اس الزام کا بھی سنجیدگی سے نوٹس لیا کہ زبردستی انخلاء پر مجبور کرنے کے لیے بجلی اور پانی منقطع کیا گیا اور بغیر کسی قانونی اختیار کے صنفی تعصبات پر مبنی غیر تحریری پالیسیوں کا نفاذ کیا گیا۔ اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے یقین دہانیوں کے بعد انفرادی شکایت کا معاملہ حل ہو گیا، تاہم فوسپاہ نے پاکستان میں کام کرنے والی خواتین اور غیر شادی شدہ پیشہ ور افراد کو درپیش منظم امتیازی سلوک پر توجہ دینا ضروری سمجھا۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف اور مریم نواز کے ساتھ چلنے کا ارادہ، بانی جیل نہیں کاٹ سکتے تو کوئی آسان کام کر لیں: آصف زرداری
نئی راہیں
فوسپاہ نے کہا کہ ازدواجی حیثیت یا جنس کی بنیاد پر کنوارا ہونا رہائش سے انکار کی کوئی قانونی وجہ نہیں بن سکتی۔ وفاقی محتسب نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے طریقۂ کار مساوات، انسانی وقار اور رہائش کی آزادی جیسے بنیادی آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
نقل و حرکت کے حقوق
فوسپاہ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ نقل و حرکت کوئی مراعات نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے، خاص طور پر خواتین کے لیے، جن کے روزگار کے مواقع عموماً بڑے شہروں تک محدود ہوتے ہیں۔








