ڈائمنڈ ہوم میں طالب علم ریان جواد کی کاوشوں سے زارا ڈیوڈ کی کتاب کی رونمائی اور پینٹنگز کی نمائش
کتاب کی رونمائی اور نمائش
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈائمنڈ ہوم میں آج پاکستان کی بھولی بسری شاعرہ اور مصورہ زارا ڈیوڈ کی کتاب کی رونمائی اور ان کی پینٹنگز کی نمائش منعقد ہوئی۔ یہ تقریب اس فنکارہ کے لیے ایک دیرینہ خواب کی تکمیل ثابت ہوئی، جسے حقیقت بنانے میں ایک طالب علم کی خلوص بھری کاوش نے کلیدی کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: انسٹاگرام استعمال کرنے کے بجائے گھریلو کام کرنے کو کہتا جس کی وجہ سے فالوورز کم ہوگئے، خاتون کی شوہر کیخلاف درخواست
پروجیکٹ کی وضاحت
یہ کتاب زارا ڈیوڈ اور ریان جواد خان کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔ ریان، لاہور امریکن اسکول کے گریڈ 11 کے طالب علم ہیں، جنہوں نے کمیونٹی سروس پراجیکٹ کے تحت لاہور کے بالی اولڈ پیپلز ہوم میں زارا ڈیوڈ سے ملاقات کی۔ اسی ملاقات کے دوران زارا نے ریان کو اپنی زندگی کی خواہش بتائی کہ وہ اپنی شاعری اور مصوری کو ایک کتاب کی صورت میں شائع دیکھنا چاہتی ہیں، مگر حالات اور وسائل کی کمی نے انہیں اس خواب سے دور رکھا۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ 9 مئی کے مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے
خواب کی تعبیر
زارا کی کہانی اور ان کے فن سے ریان اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کا عزم کر لیا۔ تقریباً ایک سال تک مسلسل محنت، رابطوں اور منصوبہ بندی کے بعد دونوں نے مل کر زارا کی شاعری اور فن پاروں کو ایک کتاب کی شکل دی۔ آج کی تقریب اسی مشترکہ جدوجہد کا نقطۂ عروج تھی، جہاں نہ صرف کتاب کی رونمائی ہوئی بلکہ زارا ڈیوڈ کی پینٹنگز بھی نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔
تقریب کا اہتمام
کتاب کی رونمائی اور نمائش کا اہتمام کوبالٹ آرٹ کی سومیہ نوید نے کیا۔ تقریب میں فنونِ لطیفہ سے وابستہ افراد، سماجی حلقوں اور شرکاء نے زارا ڈیوڈ کے کام کو سراہا اور ریان جواد خان کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے محض ایک کمیونٹی سروس پراجیکٹ کو انسانی ہمدردی اور تخلیقی خدمت کی مثال بنا دیا۔








