امریکا اور ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ایک نئی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کیلئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں، ترک صدر
صدر رجب طیب اردوان کا بیان
انقرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ایک نئی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ اردوان کے مطابق اگر یہ تنازع قابو سے باہر ہوا تو پورا مشرقِ وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماہرہ خان کو دوسری شادی کے لیے کس نے راضی کیا اور سابق شوہر کے ساتھ کیسا تعلق ہے؟ جانئے
آمریکا اور ایران کے درمیان تعلقات
مصر کے دورے سے واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ امریکا اور ایران کی قیادت کی سطح پر براہِ راست بات چیت مفید ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عمان میں ہونے والے نچلی سطح کے جوہری مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ اردوان کے بیان کا متن ان کے دفتر کی جانب سے جمعرات کو جاری کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس کا ٹیسٹ: اصل امیدواروں کی جگہ دوڑنے والے 4 افراد گرفتار
ترکی کا کردار
صدر اردوان نے کہا کہ ترکی کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وہ برسوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں اور اسی دوران ترکی نے مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں میں اپنی سفارتی حیثیت کو بھی مضبوط کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کے زیرِ اہتمام کراچی اور پورٹ قاسم پر 2 روزہ پورٹ سیکیورٹی اور ہاربر ڈیفنس ایکسرسائز کا انعقاد
امریکا اور ایران کے اختلافات
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلاف اس بات پر ہے کہ واشنگٹن مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر بات کرے گا۔ اسی اختلاف نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف فضائی حملوں کی دھمکیوں تک پہنچا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان جلد دوبارہ دنیا کی 24 ویں معیشت بن کر ابھرے گا: وزیر خارجہ اسحاق ڈار
مذاکرات کا مستقبل
مذاکرات کے دائرہ کار اور مقام پر اختلافات کے باعث یہ خدشات بھی پیدا ہو گئے ہیں کہ آیا یہ ملاقات ہو بھی پائے گی یا نہیں، اور اس صورتحال میں یہ امکان بھی موجود ہے کہ صدر ٹرمپ ایران پر حملے کی دھمکی پر عمل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میجر عزیز سے میجر عدنان تک جانبازوں نے ہمیشہ ملک کا دفاع کیا: حنیف عباسی
صدر ٹرمپ کا حوالہ
بدھ کے روز جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو فکر مند ہونا چاہیے تو انہوں نے این بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ’’ہاں، انہیں بہت فکر مند ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’وہ ہم سے مذاکرات کر رہے ہیں‘‘ تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
مذاکرات کی جگہ کی تبدیلی
ٹرمپ کے اس بیان کے بعد امریکی اور ایرانی حکام نے تصدیق کی کہ دونوں فریقوں نے مذاکرات کے مقام کو استنبول سے تبدیل کر کے مسقط منتقل کرنے پر اتفاق کر لیا ہے، حالانکہ اس سے قبل استنبول پر رضامندی ظاہر کی جا چکی تھی۔ تاہم ایجنڈے کے حوالے سے کسی قسم کی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔








