بالیوڈ اداکار نصیرالدین شاہ کو بغیر وضاحت پیش کیے ایونٹ سے نکال دیا گیا
نصیرالدین شاہ کا ممبئی یونیورسٹی کے ایونٹ سے نکالنا
ممبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر بالی ووڈ اداکار نصیرالدین شاہ کا کہنا ہے کہ انہیں ممبئی یونیورسٹی کے ایونٹ سے آخری لمحے میں نکال دیا گیا، انہیں وضاحت دی گئی اور نہ ہی معذرت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرخارجہ اسحٰق ڈار کا ازبکستان کے ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، ریلوے پروجیکٹ پر تبادلہ خیال
ایونٹ کی منسوخی کی وجوہات
نجی ٹی وی چینل نیا نیوز کے مطابق بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ نے کہا ہے کہ انہیں ممبئی یونیورسٹی کے اردو ڈیپارٹمنٹ کے ایونٹ سے آخری لمحے میں بلاوجہ نکال دیا گیا، اور نہ تو کوئی وضاحت دی گئی اور نہ ہی مجھ سے معافی مانگی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: مہنگائی، بدامنی اور معاشی بدانتظامی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، سراج الحق
مایوس کن تجربہ
نصیرالدین شاہ نے انڈین ایکسپریس میں لکھا کہ یہ تجربہ ان کے لیے بہت ہی توہین آمیز اور مایوس کن تھا کیونکہ وہ طلبا سے بات چیت کے لیے بہت پرجوش تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے قطر پر حملے سے پہلے امریکہ کو اطلاع دی، خالد مشعل سمیت حماس کی سینئر قیادت کو نشانہ بنایا
عزت کا چیلنج
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی نے سامعین کو بتایا کہ ایونٹ میں شرکت کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ حقیقت میں انہیں ایونٹ سے بغیر کسی وجہ سے نکال دیا گیا، اگر کسی افسر کا خیال ہے کہ میں اپنے ملک کے خلاف باتیں کرتا ہوں، تو میں اسے چیلنج کرتا ہوں کہ وہ صرف ایک مثال پیش کرے۔
فلمی کیریئر اور آنے والی پروجیکٹس
نصیرالدین شاہ کو 1980 کی دہائی میں ہندی سینما کے آرٹ ہاؤس فلمز میں ان کے کرداروں کے لیے سراہا گیا، جن میں منڈی، نشانت، آکروش، جانے بھی دو یارو، معصوم اور سپرش شامل ہیں۔
آئندہ وہ فلم Assi میں تاپسی پنو، ریووتھی، منوج پاہوا اور دیگر کے ساتھ نظر آئیں گے، جو 20 فروری کو سینما گھروں میں ریلیز ہوگی۔ اس کے علاوہ وہ امتياز علی کی نئی فلم میں بھی دکھائی دیں گے، جو جون میں ریلیز ہوگی۔








