بشریٰ بی بی کی اہلخانہ سے ملاقات لیکن کس کی کاوشوں سے یہ ممکن ہوا؟ انصار عباسی اندرونی کہانی سامنے لے آئے
بشریٰ بی بی کی ملاقات کی اجازت
اسلام آباد (ویب ڈیسک) تقریباً تین ماہ کے وقفے یعنی 4 نومبر 2025ء کے بعد پہلی مرتبہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو اپنے قریبی رشتہ داروں سے ملاقات کی اجازت دی گئی، جن میں ان کی بیٹی اور بھابھیاں شامل تھیں۔ لیکن یہ کس کی کاوشوں سے ممکن ہوا، اس سلسلے میں سینئر تحقیقاتی صحافی انصار عباسی اندرونی کہانی سامنے لے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ثناء یوسف کی چترال میں تدفین کردی گئی
ملاقات کی شرائط
جیو نیوز کے مطابق، چند روز قبل ہونے والی اس ملاقات کی اجازت اس واضح شرط کے ساتھ دی گئی تھی کہ اسے کسی بھی طرح کے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق، یہ ملاقات بیرسٹر محمد علی سیف کی کوششوں سے ممکن بنائی گئی، جو عمران خان اور ان کی اہلیہ کیلئے انسانی ہمدردی اور قانونی سہولت کاری کے حوالے سے بیک چینل کوششوں میں شامل رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انٹراپارٹی الیکشن نظرثانی کیس: پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ میں لارجربینچ تشکیل دینے کی درخواست
نرمی کے اشارے
بتایا جاتا ہے کہ یہ سہولت کاری بشریٰ بی بی کی جانب سے دیے گئے ابتدائی اشاروں کے بعد عمل میں آئی، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ذریعے سے معاملات میں نرمی آ سکتی ہو تو اسے آزمایا جانا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق، عمران خان نے بھی بیرسٹر محمد علی سیف کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنی روابط کو استعمال کرتے ہوئے پی ٹی آئی اور عسکری قیادت کے درمیان مفاہمت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں۔
یہ بھی پڑھیں: ارشاد بھٹی نے خاموشی توڑتے ہوئے دوسری شادی کے پیچھے چھپی جذباتی وجہ بیان کر دی
ملاقات کی گہرائی
ذرائع نے بتایا کہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی حالیہ اجازت سختی کے ساتھ اس شرط پر دی گئی تھی کہ ملاقات میں کوئی سیاسی گفتگو نہیں ہوگی۔ رشتہ داروں کو واضح طور پر کہا گیا تھا کہ وہ کوئی سیاسی پیغام پہنچائیں گے اور نہ وصول کریں گے، اور ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران اس شرط کو مکمل طور پر پورا کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور نجی ہوٹل آتشزدگی، ریسکیو 1122 ٹیموں نے 180 افراد کو بحفاظت نکال لیا، ایک ملازم جاں بحق، تمام آپریشن براہ راست دیکھ رہی ہوں، مریم نواز
ذاتی نوعیت کی شکایت
اگرچہ ملاقات میں کسی سیاسی معاملے پر گفتگو نہیں ہوئی، تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بشریٰ بی بی نے ذاتی نوعیت کی شکایت کا اظہار کیا اور افسوس ظاہر کیا کہ ان کی اور عمران خان کی مسلسل قید کے باوجود پاکستان تحریکِ انصاف ان کیلئے کوئی مؤثر کوشش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ تاہم، ذرائع نے واضح کیا کہ یہ شکایت محض ذاتی احساس تک محدود رہی اور اس سے کوئی سیاسی پیغام یا ہدایت اخذ نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزادی کی صبح ضرور طلوع ہوگی ، کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی:حنا پرویز بٹ
مستقبل کی ملاقاتوں کا امکان
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر طے شدہ شرائط کی اسی طرح پاسداری کی جاتی رہی تو حالات کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں بشریٰ بی بی کی اہل خانہ کے ساتھ اسی نوعیت کی محدود ملاقاتوں کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اس کے برعکس، عمران خان کے معاملے میں فی الحال کسی ایسی نرمی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔
یہ بھی پڑھیں: مصدق ملک کی روس سے سستے خام تیل خریداری معاہدے کی خبروں کی تردید
ماضی کی ملاقاتیں
خاندان کے لوگوں کیساتھ ان کی آخری ملاقات، جس میں ان کی بہن شامل تھیں، پی ٹی آئی قیادت، بالخصوص بیرسٹر گوہر علی خان کی مسلسل کوششوں کے بعد ممکن ہو سکی تھی۔ تاہم یہ ملاقات اس وقت متنازع بن گئی جب عمران خان سے منسوب بعض بیانات بعد ازاں میڈیا تک پہنچائے گئے، جن میں چیف آف آرمی اسٹاف پر براہِ راست تنقید کی گئی تھی۔
حکام کی حساسیت
ذرائع کے مطابق، ان بیانات کو حکام نے ناقابلِ قبول قرار دیا، جس کے نتیجے میں پابندیاں دوبارہ سخت کر دی گئیں اور اس امر پر مزید زور دیا گیا کہ جیل میں اہل خانہ کے ساتھ ملاقاتوں کو کسی صورت سیاسی رابطے یا پیغام رسانی کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔








