افغانستان میں سرگرم 20 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں دنیا کے لیے خطرہ ہیں: بلال اظہر کیانی
ترجمان حکومت کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ 20 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے کام کر رہی ہیں اور یہ تنظیمیں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: گل پلازہ آتشزدگی، دکھ کی گھڑی میں اہل پنجاب متاثرین کیساتھ ہیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز
عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں خطاب
روزنامہ جنگ کے مطابق لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر ریاست کو حق ہے کہ اپنے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے، پاکستان اب سخت اقدامات کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی نتیجہ خیز بات چیت کے لیے تیار ہے۔ افغانستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مثبت اور دیرپا اقدامات کرنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سرگودھا میں انسپکٹر کی جانب سے بچی سے مبینہ زیادتی کا افسوسناک واقعہ
انسانی بنیادوں پر امداد کا خدشہ
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد طالبان رجیم کی مضبوطی پر خرچ ہو رہی ہے۔ ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں، مختلف آپریشنز میں مارے جانے والے متعدد افغانی دہشت گرد تھے، ٹی ٹی پی کو محفوظ ٹھکانے افغانستان سے فراہم کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے 13 مختلف مقدمات سماعت کے لیے مقرر کر دیے
افغان مہاجرین کی واپسی
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے چار دہائیوں تک افغانیوں کے لیے اپنے دروازے کھولے رکھے اور دل سے افغان بہن بھائیوں کی مدد کی، تاہم اب ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں کہ ان حالات میں مدد جاری رکھیں۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ داخلہ پنجاب نے محفوظ پنجاب ایکٹ 2025 کا مسودہ تیار کر لیا
پاکستان کا انسانی تعاون
وزیر مملکت خزانہ نے کہا کہ افغان شہریوں کو مرحلہ وار واپس بھیجا جا رہا ہے اور کوئی ملک بھی بغیر دستاویزات یا رجسٹریشن کے دوسرے ملک کے شہریوں کو نہیں رکھ سکتا۔
دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ پاکستان انسانی بنیادوں پر مدد کے لیے تیار ہے لیکن افغان حکومت کو دہشت گردی روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔








