27ویں آئینی ترمیم کے بعد عوامی مفاد کی پہلی درخواست آئینی عدالت میں دائر
آئینی ترمیم کے بعد پہلی درخواست
کوئٹہ (ویب ڈیسک) 27ویں آئینی ترمیم کے بعد عوامی مفاد کی پہلی درخواست آئینی عدالت میں دائر کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: لائیون فارما لمیٹڈ کے سی ای او کی قازقستان کے سفیر سے ملاقات، دو طرفہ تجارت اور علاقائی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال
درخواست کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل سماء نیوز کے مطابق تقویم شاہ کی درخواست حافظ احسان کھوکھر کے توسط سے دائر کی گئی، درخواست میں بلوچستان حکومت اور ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ کو فریق بنایا گیا۔ یہ درخواست کوئٹہ کے سمنگلی روڈ پر فلائی اوور کی تعمیر کے خلاف دائر کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور روس کے درمیان باہمی رابطوں کے فروغ پر اتفاق
عدالت سے استدعا
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ فلائی اوور بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف نیفرولوجی کی زمین پر بنایا جا رہا ہے۔ عدالت فلائی اوور کی تعمیر فوری طور پر روکنے کا حکم دے، کیونکہ فلائی اوور کی تعمیر اسپتال کے بالکل ساتھ اور اس کی زمین پر ہورہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ڈی ایم اے کی 5 نومبر تک پنجاب میں بارشوں کی پیشگوئی
اسپتال کی اہمیت
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف نیفرولوجی صوبے کا واحد گردوں کا اسپتال ہے، جہاں دور دراز اضلاع سے آئے مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اطلاعات کا سرکاری ٹی وی میں مالی کو پروڈیوسر لگائے جانے کا انکشاف
مریضوں کے لئے خطرات
فلائی اوور کی تعمیر مریضوں کی جانوں کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔ ایمبولینس کی آمد و رفت، ایمرجنسی رسائی اور ڈائیلاسز سروسز متاثر ہو رہی ہیں۔ بھاری مشینری، شور اور دھول سے اسپتال کا ماحول غیر محفوظ ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی سفارتی وفد کو اڈیالہ جیل میں قیدی تک قونصلر رسائی
عدالتی کارروائی اور حقوق کی خلاف ورزی
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بغیر قانونی کارروائی کے اسپتال کی زمین استعمال کی جا رہی ہے۔ لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت کوئی نوٹس یا معاوضہ بھی ادا نہیں کیا گیا، یہ اقدام آرٹیکل 23 اور 24 کے تحت حق ملکیت کی خلاف ورزی ہے۔
بنیادی حقوق کا تحفظ
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا ازالہ صرف مالی معاوضے سے ممکن نہیں۔ انسانی صحت کو ٹریفک سہولت پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ اسپتال انتظامیہ نے اس جگہ پر انڈر پاس بنانے کی تجویز دی تھی۔








