بسنت پر صوبہ پنجاب میں 20 ارب روپے سے زائد کا کاروبار ہوا، جس سے صوبائی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچا، آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن
بسنت کے موقع پر کاروبار کا جائزہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے دعویٰ کیا ہے کہ بسنت کے موقع پر صوبہ پنجاب میں 20 ارب روپے سے زائد کا کاروبار ہوا جس سے صوبائی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کبڈی کھلاڑی بھارتی ٹیم کا جھنڈا اٹھاکر میدان میں اترگیا، فیڈریشن کا سخت ایکشن کا اعلان
بکنگ اور روزگار کی حالت
ایکسپریس نیوز کے مطابق بسنت کے کامیاب انعقاد کے بعد ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا تھا کہ بسنت کے دوران صرف پتنگ اور ڈور کا کاروبار ہی تین ارب روپے سے زائد رہا جبکہ بانس، کاغذ، مزدوری اور دیگر متعلقہ شعبوں سے وابستہ افراد نے بھی بھرپور روزگار حاصل کیا۔ بانس فروش ہو یا پیپر فروش، مزدور ہو یا کاریگر، سب نے اس تہوار سے فائدہ اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا واحد راستہ عدالتی و قانونی چارہ جوئی ہے،احسن اقبال
ایس او پیز اور حکومت کے اقدامات
ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت کے ساتھ مل کر بسنت کے لیے ایس او پیز تیار کی گئیں، گڈے، پتنگ اور ڈور کے حوالے سے حکومت اور ایسوسی ایشن ایک پیج پر تھیں، جبکہ حکومت کی جانب سے 10 لاکھ سے زائد سیفٹی راڈز نصب کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ کمال نے آٹھ ماہ میں پاکستان کو پولیو فری ملک بنانے کا دعوی کردیا
منڈی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ
انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ مواقع پر قیمتوں میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں ایک پنہ جو چار ہزار روپے میں دستیاب تھا، وہ 40 ہزار روپے تک فروخت ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر سے کرپٹ ترین عناصر کو نکال پھینکا،ایجنسیوں کی معلومات مستند تھیں،سفارشیں بھی آئیں مگر وہ کیا جس کی مثال نہیں ملتی،شہباز شریف
ناجائز منافع خوری کے خلاف اقدامات
نمائندوں نے واضح کیا کہ ناجائز منافع خوری کے وہ بھی خلاف ہیں اور حکومت کی جانب سے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جن افراد نے چرخی استعمال کی وہ قانون سے بالاتر نہیں ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈونیشین صدر کے اعزاز میں پروقار استقبالیہ، مسلح افواج کے دستے نے سلامی دی
پروڈکشن کی اجازت اور چیلنجز
ایسوسی ایشن نے بتایا کہ پنجاب کے چار اضلاع میں پتنگ اور ڈور کی پروڈکشن کی اجازت دی گئی تھی تاہم 30 دسمبر کو اجازت ملنے کے بعد 15 دن دھند چھائی رہنے سے پروڈکشن متاثر ہوئی۔ آئندہ برسوں میں حکومت پروڈکشن کے عمل کو مزید کنٹرول کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ انصاری کی سابق شوہر کے ساتھ پرانی ویڈیو وائرل، نئی بحث چھڑ گئی
آیندہ سال کی منصوبہ بندی
آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے مطابق اگلے سال پورے پنجاب میں بسنت منائی جائے گی اور وزیراعلیٰ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ تہوار دوبارہ منعقد ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں ہر طرف بسنت کا رنگ تھا، ہر چھت پر پتنگ بازی نظر آئی اور ضلعی انتظامیہ نے بھرپور تعاون کیا۔
پولیس کی کارروائیاں
ایسوسی ایشن نے کہا کہ کچھ افراد نے بغیر چیکنگ کے دوسرے شہروں سے پتنگیں اور گڈیاں لائیں، تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں چیک کیا۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سال میں کئی بار بسنت منائی جائے کیونکہ یہ تہوار ثقافت، روزگار اور معیشت کے لیے انتہائی اہم ہے۔








