حلوے سے بھری پلیٹیں، شاہ صاحب خود بھی مزہ لیتے رہے اور ساتھی بھی، ایک دن آرائشی ٹانگہ آیا اور چلتے بنے
مصنف کا تعارف
مصنف: ع۔غ۔ جانباز
قسط: 54
یہ بھی پڑھیں: ملکی سیاسی میدان میں نئی انٹری؛ الیکشن کمیشن نے نئی جماعت رجسٹر کرلی
شاہ صاحب کا تعارف
خلش تو پر تو لے تھی کہ اتنے کرّو فر سے آنے والے کا پتہ کریں تو پتہ چلا کہ اُن کے نامِ نامی کو یاد کرنے کیلئے تو ایک ”ذہنِ توانا“ دن رات لگا رہے تو شاید ازبر نہ کرسکے نام کچھ یوں تھا۔
پیر سیّد علمدار حسین شاہ صاحب بانی درگاہ عالیہ کے فرزند ارجمند پیر سیّد برکات العلوم مظہر حسین شاہ صاحب کی اَولادِ نرینہ میں پیر سیّد کاظم حسین شاہ صاحب ”وارث گدی کرم آباد“۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس اڈیالہ جیل پہنچ گئی
ہاسٹل کی زندگی
ہم جو اپنی دیگر ضروری مصروفیات مثلاً ڈرامیٹک کلب میں شمولیت، تقریری مقابلوں میں حصّہ، ساری کھیلوں، فٹ بال، ہاکی، رسہّ کشی اور والی بال وغیرہ میں دس دس پندرہ پندرہ منٹ لگا رہے ہوں تو اُن کے پاس تو اپنی درسی کُتب کی ورق گردانی کے لیے وقت صرف امتحان جب سر پر سوار ہو تب ہی میسّر آتا ہے، وہ شاہ صاحب کا نام نامی یاد کرنے کا تو یارا نہیں رکھتے تھے۔ چنانچہ ایک پنچائتی فیصلہ ہوا کہ اُن کو ”شاہ صاحب، شاہ صاحب“ ہی کہہ کر پکار لیا جائے تو کام چل جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ستلج اینڈ بہاولنگر ریڈیو لسنرز کلب کے زیرِ اہتمام تقریب، جدید ٹرانسمیٹرز کی تنصیب کی ضرورت پر زور دیا گیا
شاہ صاحب کا کمرہ
میں کچھ اِدھر اُدھر چکّر لگا کر جب اپنے کمرے میں پہنچا تو پتہ چلا کہ شاہ صاحب نے گھوم پھر کے دیکھا اور ہمارا کمرہ پسند فرمایا۔ لہٰذا سامان وہاں شفٹ کروالیا ہے۔ میں بھی شاہ صاحب سے تپاک سے ملا اور خوش آمدید کہا۔ شب و روز گزرنے لگے تو پتہ چلا کہ شاہ صاحب کے پاس اپنا ایک "Stove" ہے۔ جس پر وہ کئی قسم کے میٹھے کھانے جیسے حلوہ، کھیر وغیرہ خود پکا لیتے ہیں کیونکہ ہوسٹل کے کھانوں سے شاہ صاحب جیسے خوش خوراک کا کب پیٹ بھرتا؟ یہی نہیں کہ پکاتے خود کھا لیتے، سبھی رُوم میٹس کے آگے حلوہ سے لَبا لَب بھری پلیٹیں رکھتے جاتے اور چُپکے سے اپنے بیڈ پر جا کر حلوہ کھانے لگ جاتے۔
یہ بھی پڑھیں: ایونٹ کے دوران اداکارہ کی اچانک آواز چلی گئی، 2 سال تک بول نہیں پائی، پھر آواز کیسے واپس آئی؟
پڑھائی اور امتحانات
آپ کہیں گے کہ جس کام کے لیے شاہ صاحب جس کروّ فر کے ساتھ آئے تھے اُس کا تذکرہ تک میں نے نہیں کیا۔ بھئی رات ہوگی تو اُس بات کا ذکر ہوگا۔ حسب توفیق لڑکے کچھ تھوڑا بہت ہوسٹل کے "Study Period" کا لحاظ کرجاتے تھے اور کچھ پڑھ لیتے اور شاہ صاحب حسب معمول اپنی چارپائی پر دراز ہوجاتے۔ اُوپر سفید چمکدار دُھلی دُھلائی چادر اوڑھ لیتے اور لیٹے لیٹے کتاب پڑھتے۔ یہ پڑھائی کا دورانیہ دس پندرہ منٹ سے زیادہ کبھی نہ ہوا۔ کتاب شاہ صاحب کے ہاتھ سے گری اور شاہ صاحب گہری نیند کے مزے لینے لگے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا ؟
نتائج اور آنے والے دن
سالانہ امتحان ہوا تو ”شاہ صاحب“ تو کامیاب نہ ہوئے اور میں سیکنڈ ائیر سے تھرڈ ائیر میں چلا گیا۔ لیکن کیا مجال جو شاہ صاحب کو اس بات کا کوئی ملال ہوا ہو۔ اور اگلے سال پھر میں تھرڈ ائیر سے پروموٹ ہو کر درجۂ چہارم میں چلا گیا لیکن شاہ صاحب وہیں گیارہویں کلاس میں ڈٹے رہے اور معمول میں ذرہ برابر شاہ صاحب نے فرق نہ آنے دیا۔ حلوہ سے بھری پلیٹیں شاہ صاحب خود بھی چٹ کرتے رہے اور کمرہ میں موجود ساتھی بھی مزے لیتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشین ماسٹرز ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں پاکستان نے ایک اور گولڈ میڈل جیت لیا
شاہ صاحب کی جدائی
میرا چودھویں جماعت کا وَسط ہوگا کہ ایک دن وہی ”آرائشی ٹانگہ“ آیا اور شاہ صاحب ہمیں داغِ مفارت دے کر چلتے بنے۔ ہمیں نہ اُن کے آنے کی سمجھ آئی کہ کس لیے آئے تھے اور نہ جانے کی کہ اب کیا اُفتاد آن پڑی کہ اتنا لذیذ حلوہ کھاتے کِھلاتے اچانک چل دئیے۔(جاری ہے)
نوٹ
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








