نادرا کا شناخت کی تصدیق کے لیے نیا ڈیجیٹل نظام متعارف
نادرا کا نیا ڈیجیٹل نظام
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نادرا نے شناخت کی تصدیق کے لیے نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کرا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: یکم اپریل سے اب تک کتنے غیر قانونی غیر ملکیوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔۔؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
بینکوں میں شناخت کی تصدیق
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پاکستان میں اگر کوئی شہری بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے اور رقم جمع کروانے آئے تو بینک نادرا سے اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ فراہم کی گئی شناختی دستاویزات واقعی اسی شخص کی ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امید ہے امریکی صدر ٹرمپ غزہ میں بھی جنگ بندی کرائیں گے: محسن نقوی
شناخت کی تصدیق کی بڑھتی ہوئی ضرورت
پاکستان میں شناخت کی تصدیق کی ضرورت بڑھ رہی ہے اور اسی کے ساتھ نادرا پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے، کیونکہ روزانہ کوئی نہ کوئی ادارہ بائیومیٹرک سہولیات سمیت شناخت کی تصدیق کا مطالبہ لے کر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 1351 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کے سروں کی قیمت 4 ارب سے زائد مقرر
نشانِ پاکستان نظام
اس صورتِ حال کے پیشِ نظر اب نادرا نے تمام سرکاری اور نجی ریگولیٹڈ اداروں کے لیے نشانِ پاکستان کے نام سے شناخت کی تصدیق کا نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کروا دیا ہے۔ اس نظام کے تحت مذکورہ ادارے اپنے پاس آنے والے شہریوں کی شناختی دستاویزات کی تصدیق، رجسٹریشن، سبسکرپشن اور دیگر سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: گٹر میں گر کر 5سالہ بچی جاں بحق، وزیراعلیٰ مریم نواز کا گہرے دکھ کا اظہار، رپورٹ طلب کر لی
ویب پورٹل کی خصوصیات
نادرا کے مطابق نشانِ پاکستان ایک جامع ویب پورٹل ہے جس کے ذریعے سرکاری اداروں اور ریگولیٹڈ نجی شعبے کو رجسٹریشن، سبسکرپشن اور شناخت کی تصدیق کی تمام سہولیات ایک ہی پلیٹ فارم پر آن لائن فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: بینک آف پنجاب جونیئر نیشنل ٹینس چیمپئن شپ کا رنگا رنگ آغاز، پہلے روز سنسنی خیز مقابلے
حفاظتی اقدامات اور سروسز
نادرا نے یہ بھی بتایا ہے کہ اس سے قبل آن بورڈنگ کے لیے طویل دستاویزی کارروائی اور بار بار منظوری کے مراحل کے باعث تاخیر اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی تھیں، تاہم نئے نظام سے یہ عمل تیز، شفاف اور مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنے والے اکاؤنٹس کا سراغ لگا لیا گیا
آسان رسائی اور خدمات
اس پورٹل کے ذریعے بینکوں، مائیکروفنانس اداروں، نان بینکنگ فنانشل انسٹیٹیوشنز، ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں اور دیگر ریگولیٹڈ اداروں کو نادرا کی مختلف خدمات تک آسان رسائی حاصل ہو گی، جس میں رجسٹرڈ اداروں کے لیے ملٹی بائیومیٹرک ویریفیکیشن، فنگر پرنٹس، پروف آف لائف اور سنگل سائن آن (ایس ایس او) جیسی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی پہلی قومی میڈیا اور معلوماتی خواندگی کی حکمت عملی کی تشکیل: پالیسی سازوں کے ساتھ مذاکراہ
ڈیجیٹل اکانومی اور سیکیورٹی
نادرا کے مطابق اس اقدام سے شناخت کی تصدیق کا عمل زیادہ محفوظ، مؤثر اور قانونی تقاضوں کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس کے تحت ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور خدمات کی فوری فراہمی ممکن ہو گی۔ یہ اقدامات حکومتِ پاکستان کے ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ (ڈیپ) اور فیٹف کے ضوابط کے تحت کیے جا رہے ہیں، تاکہ الیکٹرانک اور ڈیجیٹل خدمات میں شفافیت اور سیکیورٹی کو فروغ دیا جا سکے۔
سرکاری اور نجی اداروں کی رسائی
نادرا کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ سرکاری اور ریگولیٹڈ نجی اداروں کو صرف شہریوں کی شناخت کی تصدیق تک رسائی دی گئی ہے۔ نظام اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ یہ ادارے خودکار طور پر ڈیٹا اپنے پاس محفوظ نہیں رکھ سکیں گے۔ اس نظام کے تحت اب پاکستان کے مختلف سرکاری اور نجی بینک، مائیکروفنانس ادارے جیسے ایزی پیسہ، جیز کیش، ریگولیٹڈ آن لائن بزنسز اور دیگر ادارے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔








