رمضان المبارک کی آمد، سیکیورٹی گائیڈ لائنز جاری، عبادت گاہوں کے اطراف گشت، ناکہ بندی اور سرچ آپریشنز مزید مؤثر بنانے کا حکم
محکمہ داخلہ پنجاب کی سیکیورٹی ہدایات
لاہور ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) رمضان المبارک 1447 ہجری کے فول پروف سیکیورٹی انتظامات یقینی بنانے کیلئے محکمہ داخلہ پنجاب نے سیکیورٹی گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہاروی وائنسٹن دوبارہ ٹرائل میں بھی ریپ کے مجرم قرار
سیکیورٹی کی اولین ترجیحات
تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ مساجد، مذہبی مقامات اور رمضان بازاروں کی سیکیورٹی کو اولین ترجیح دی جائے اور رمضان میں امن و امان کیلئے سخت حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے جامع سیکیورٹی پلان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ احترامِ رمضان آرڈیننس 1981 کے تحت روزہ کے اوقات میں عوامی مقامات پر کھانے پینے پر پابندی ہوگی جبکہ مساجد، مدارس اور امام بارگاہوں کی سیکیورٹی کیلئے اضافی نفری تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں 15 ہزار غیر قانونی مقیم غیرملکی گرفتار
سخت حفاظتی اقدامات
محکمہ داخلہ نے سحر، افطار، تراویح اور جمعہ کے اوقات میں سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح تمام شہروں میں داخلی و خارجی راستوں پر سخت چیکنگ اور بایومیٹرک مشینوں کے استعمال کی ہدایت کی گئی ہے۔ عبادت گاہوں کے اطراف میں گشت، ناکہ بندی اور سرچ آپریشنز مزید مؤثر بنانے کا حکم دیا گیا ہے اور اس مقصد کیلئے رمضان المبارک سے قبل سی سی ٹی وی کیمروں، واک تھرو گیٹس اور سرچ لائٹس کی تنصیب یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دادا کہا کرتے تھے”بیٹا! عزت غریبوں سے بنتی ہے، وہ تمھارے پاس ”آس“لے کر آتے ہیں۔ ان کی آس کبھی ٹوٹنے مت دینا، اللہ بھی تمھارا مدد گار ہو گا“
تھری لیئر سیکیورٹی اور خصوصی انتظامات
محکمہ داخلہ پنجاب نے اہم مقامات پر جمعہ اور تراویح کے دوران تھری لیئر سیکیورٹی، ریزر وائر اور بیریئرز لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبادت گاہوں کے داخلی و خارجی راستے محدود اور محفوظ بنائے جائیں۔ افطار کے وقت فیلڈ میں تعینات سیکیورٹی اہلکاروں کیلئے خصوصی انتظامات اور افطاری کا اہتمام کیا جائے۔ رمضان المبارک کے دوران رضاکاروں اور نجی سیکیورٹی گارڈز کی تعیناتی انتظامیہ سے مشاورت، بنیادی تربیت اور سپیشل برانچ سے کلیرنس کے بعد کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا اقوام متحدہ میں عسکری مصنوعی ذہانت کے خطرات پر اظہار تشویش
نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے
محکمہ داخلہ نے کالعدم تنظیموں اور فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی سخت نگرانی کی ہدایت کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیز کو قریبی باہمی رابطہ برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ سیکرٹری داخلہ پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ پنجاب بھر میں سینئر پولیس افسران اور انتظامی افسران خود تمام انتظامات کی نگرانی کریں۔
یہ بھی پڑھیں: توشہ خانہ ون کیس؛بانی پی ٹی آئی کی سزا کے خلاف اپیل پر سماعت 14نومبر تک ملتوی
مساجد کی میپنگ اور مقامی کمیٹیاں
ترجمان محکمہ داخلہ نے بتایا ہے کہ پنجاب کے تمام اضلاع میں مساجد کی میپنگ اور جیو ٹیگنگ مکمل کی جاچکی ہے اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کی سربراہی میں تحصیل مسجد کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان 45 دن میں رہا ہوسکتے ہیں، دو شرائط ہیں، پہلی شرط کہ بانی پی ٹی آئی خاموش رہیں اور دوسری ۔ ۔ ۔ ’تہلکہ خیز دعویٰ سامنے آگیا
خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں
محکمہ داخلہ نے انتظامیہ کو ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ رمضان المبارک کے دوران لاؤڈ اسپیکرز کے غلط استعمال کے خلاف پنجاب ساؤنڈ سسٹمز ایکٹ کے تحت کارروائی ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: پیر پگارا کا فوج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار، حر جماعت کو دفاع کیلئے تیار رہنے کا حکم
سوشل میڈیا مانیٹرنگ اور اسلحہ کی پابندی
اسی طرح پنجاب بھر میں اسلحہ کی نمائش پر سخت پابندی ہے اور خلاف ورزی پر بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔ تمام اضلاع میں سوشل میڈیا مانیٹرنگ کے ذریعے نفرت آمیز اور اشتعال انگیز مواد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
ریسکیو خدمات اور کنٹرول رومز کی تشکیل
محکمہ داخلہ نے صوبہ بھر میں ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ، بم ڈسپوزل سکواڈ، ایمبولینس اور ڈاکٹرز کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ تمام ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر میں ضلعی کنٹرول روم قائم کر کے محکمہ داخلہ کے مرکزی کنٹرول روم سے لنک کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔








