کروڑوں اربوں کے بے تحاشا اخراجات کے باعث کسان، مزدور، خواتین، وکلاء، پروفیسرز اور ڈاکٹرز کے لیے انتخابات میں حصہ لینا خواب بن کر رہ گیا ہے۔
مصنف:
رانا امیر احمد خاں
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹیل ملز کراچی میں بڑے پیمانے پر منظم چوری کا انکشاف
قسط:
306
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی پر جسمانی تشدد تو نہیں کیا لیکن مینٹل ٹارچر کیا گیا،علیمہ خان
قرضوں کی معافی:
اربوں کھربوں کے قرضے امیروں کو دیکر معاف کر دئیے گئے ہیں۔ ان کی واپسی کے لیے اقدامات کئے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے بڑھتی ہوئی جغرافیائی و علاقائی کشیدگی کے پیشِ نظر ہائی الرٹ جاری کردیا
خارجہ پالیسی کی ضرورت:
آزادانہ خارجہ پالیسی اپنائی جائے۔ دوستی کے بھیس میں بیرونی طاقتیں پاکستان میں بدامنی اور دہشتگردی کو پروان چڑھا رہی ہیں، جو کہ پاکستان کی معاشی خوشحالی کا راستہ روک رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی سپنر نعمان علی آئی سی سی پلیئر آف دی منتھ قرار
اندرونی بدعنوانی:
اندرون ملک کرپٹ افراد بغیر محنت کے بدعنوانی اور خزانے کی لوٹ کھسوٹ کے ذریعے غیر قانونی طور پر سرمایہ جمع کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔ ایسے تمام لوگوں کو مجرم پائے جانے پر ان کی جائیدادیں فروخت کر کے قومی خزانے میں رقم جمع کروانی چاہئے۔ ان افراد کا کڑا محاسبہ بھی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملبہ گرنے کا خطرہ، اسرائیلی سٹاک مارکیٹ کے قریب کئی عمارتوں کو سیل کر دیا گیا
حکومتی اختیار:
حکمرانوں کے تمام صوابدیدی اختیارات ختم کروائے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی شاہ سلمان کی زیرصدارت اجلاس بجلی کے شعبے میں پاک سعودی مفاہمتی یادداشت کی منظوری
گڈ گورننس:
گڈ گورننس کے لیے ضروری ہے کہ تمام محکموں میں سیاسی مداخلت ختم کر کے قانون اور قواعد کے مطابق میرٹ اور انصاف کا نظام اپنایا جائے اور قانون کی حکمرانی قائم کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: لیسکو کا آپریشن، 24گھنٹوں کے دوران کتنے سوافراد بجلی چوری کرتے پکڑے گئے؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں
کھلا خط:
کھلا خط بنام میاں نواز شریف وزیراعظم پاکستان اور چیئرمین الیکشن کمیشن، صدور سیاسی جماعتیں۔ تھنک ٹیک سٹیزن کونسل آف پاکستان کے صدر رانا امیر احمد خاں ایڈووکیٹ نے وزیراعظم پاکستان، چیئرمین الیکشن کمیشن آف پاکستان اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کے نام ایک کھلا خط ارسال کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کچے کے ڈاکوؤں کیلئے اسلحہ لیجانے والے 7 ملزمان گرفتار، 12 ہزار گولیاں برآمد
انتخابی اصلاحات کی سفارشات:
اس خط کے ساتھ تھنک ٹینک کی تیار کردہ سفارشات، انتخابی اصلاحات برائے قومی انتخابات 2018ء بھیجی گئی ہیں۔ موجودہ طریقۂ انتخابات کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے متناسب طریقۂ نمائندگی کو اختیار کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: عمر قید پانے والا شخص دنیا سے 30 سال آگے نکل گیا، جیل میں رہ کر لاکھوں روپے کیسے کمائے؟ ایک ہنر نے قیدی کی زندگی بدل ڈالی
انتخابات کی شفافیت:
سٹیزن کونسل آف پاکستان نے وزیراعظم پاکستان سے اپیل کی ہے کہ آئندہ انتخابات 2018ء کو صاف شفاف طریقے سے مکمل کرنے کے لیے انتخابی اصلاحات کے ایشو کو فوری اہمیت کا مسئلہ قرار دیں۔
ورنہ خدشہ ہے کہ 2018ء کے عام انتخابات بھی سابقہ انتخابات کی طرح ناکام اور متنازعہ بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے قوم سے سیلاب کی مشکل گھڑی میں متحد ہونے کی اپیل کر دی
تاریخی تنقید:
پاکستان کی گزشتہ 70 سالہ تاریخ میں جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں ان پر سب سے بڑا اعتراض پولیس، حکومتی الیکشن مشینری، الیکشن کمیشن کے غلط استعمال کے باعث انتخابات کا صاف و شفاف نہ ہونا ہے۔ 1985ء کے بعد ہونے والے انتخابات میں ایک دوسرا بڑا اعتراض ممبران اسمبلی کے انتخابات پر کروڑوں اربوں کے بے تحاشا اخراجات ہیں۔
نوٹ:
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








