جماعت اسلامی کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کے واقعے کا مقدمہ درج
کراچی میں احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کا واقعہ پیش آیا ہے جس کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور امریکہ میں تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے پر اتفاق
مقدمہ درج
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، پولیس حکام نے بتایا ہے کہ زخمی پولیس افسر راجہ مسعود کی مدعیت میں مقدمہ تھانہ آرام باغ میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے جس میں 30 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی اور طلال چوہدری کی فتنہ الخوارج کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے شہیدہونے والےلیفٹیننٹ کرنل جنید کے اہل خانہ سے ملاقات
احتجاج کا منظر
مقدمے میں بیان کیا گیا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے برنس روڈ پر احتجاج کیا جارہا تھا۔ اس دوران مظاہرین نعرے بازی کر رہے تھے، جب پولیس نے ان کو روکنے کی کوشش کی تو مظاہرین نے پولیس پر بھی حملہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اظہر محمود کا پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کے ساتھ سفر اختتام پذیر
چوٹیں اور نقصانات
مظاہرین کے پتھراؤ کی وجہ سے دو ایس ایچ او سمیت چار پولیس افسران زخمی ہوئے ہیں۔ موقع سے گولیوں کے خول، پندرہ ڈنڈے، پتھر اور 79 گیس شیل بھی حاصل کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
ریڈ زون میں جھڑپیں
مظاہرین کے حملے کے نتیجے میں پولیس موبائل کو بھی نقصان پہنچا۔ جب مظاہرین ریڈ زون میں داخل ہوئے تو پولیس اور جماعت اسلامی کے کارکنان کے درمیان جھڑپیں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: کل رات سے قبل بہت پر امید تھے مگر دونوں فریقوں کے بیٹھنے کے مرحلے پر اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا، اسحاق ڈار
پولیس کی کارروائی
یاد رہے کہ گزشتہ روز کراچی میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور پولیس کے درمیان آمنے سامنے ہونا ایک بڑا واقعہ تھا، جہاں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سندھ اسمبلی جانے کی کوشش کی جس پر رینجرز اہلکاروں کو طلب کیا گیا تھا۔
آنسو گیس کی شیلنگ
پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، جس کے باعث ایک کارکن زخمی ہوگیا تھا۔








