سپریم کورٹ نے سزائے موت اور عمر قید کے تمام مقدمات آئندہ 45 دنوں میں نمٹانے کا ہدف مقرر کر دیا
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ آف پاکستان نے تمام سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات آئندہ 45 دنوں میں نمٹانے کا ہدف مقرر کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: معروف ٹاک ٹاکر پیاری مریم بچے کی پیدائش کے دوران انتقال کر گئیں
مقدمات کی تعداد میں کمی
سپریم کورٹ نے اعلامیہ جاری کر دیا جس کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی قیادت میں اکتوبر 2024 سے فوجداری مقدمات کی مجموعی زیر التوا تعداد 19 ہزار 549 سے کم ہو کر 12 ہزار 705 رہ گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل کے قریب عمران خان کی بہنوں کا دھرنا، پولیس نے کارکنان کی گرفتاریاں شروع کردیں
سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات
اعلامیہ کے مطابق 9 سے 14 فروری 2026 کے دوران سپریم کورٹ نے سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 354 فوجداری مقدمات نمٹائے، اسی ہفتے سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 131 نئے مقدمات دائر ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: رابعہ کلثوم نے بھارت میں کام کرنے والے پاکستانی فنکاروں کو چپیڑیں مارنے کا اعلان کردیا
مقدمات کی نمٹنے کی شرح
ہفتہ وار بنیاد پر نمٹائے گئے مقدمات کی شرح دائر ہونے والے مقدمات سے تقریباً 270 فیصد زیادہ رہی۔ فیصلہ کیا گیا کہ جنوری 2026 تک کے تمام زیر التوا سزائے موت کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔ مخصوص بینچز، اصلاحاتی گروپس اور عدالتی ٹیمیں مربوط حکمت عملی کے تحت اہداف کے حصول کے لیے سرگرم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قائداعظمؒ کا قول: ہندو تقسیم ہند کے خلاف اس لیے تھا کہ مسلمان اُن کے اختیار سے باہر ہو جائیں گے، ان کی تجارت فیل ہو جائے گی
جیل پٹیشنز کی رفتار میں بہتری
چیف جسٹس آف پاکستان نے زیر سماعت قیدیوں سے متعلق جیل پٹیشنز کو منظم اور تیز رفتار بنانے کی ہدایات جاری کر دیں۔
عملدرآمد کے نئے اصول
سپریم کورٹ کے اعلامیہ کے مطابق جیل پٹیشنز کی دائرگی سے فیصلے تک واضح اور قابلِ پیش گوئی ٹائم لائن متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فوجداری مقدمات میں جمود کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔








