چھوٹے اور بڑے ٹیلوں کے درمیان بہتا دریائے چناب کا سورج کی روشنی میں چمکتا ہوا پانی، جیسے ستارے پانی پر اترے ہوں، ہر طرف قدرتی مناظر بکھرے ہوئے ہیں۔
مصنف کی شناخت
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 442
یہ بھی پڑھیں: مری میں ژالہ باری اور بارش سے سڑکیں پھسلن کا شکار، سیاح غیرضروری سفر سے مکمل اجتناب کریں؛ ڈی پی او مری
تاریخی پس منظر
منڈی بہاؤالدین ایک تاریخی جگہ ہے جہاں سکندر اعظم کے نشان ملتے ہیں، جبکہ حافظ آباد خالصتاً زرعی ضلع ہے۔ یہاں کا کسان خوشحال ہے اور زمین سے سونا اُگاتا ہے۔ ناروال سب سے پسماندہ ضلع ہے اور اس کی تحصیل شکر گڑھ سے دریائے راوی پاکستان میں داخل ہوتا ہے، جو اس سیکٹر میں پاک، بھارت سرحد بھی ہے۔ گردوارہ کرتار پور بھی اسی تحصیل میں واقع ہے، جو سکھوں کا متبرک مقام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم اور انکی ٹیم نے عوامی موقف سن کر نہروں کا مسئلہ خوش اسلوبی سے سلجھایا: وزیراعلیٰ سندھ
دریاؤں کا سنگم
دریائے چناب اور دریائے بیاس سیالکوٹ سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، اور ہیڈ مرالہ سے اوپر "بجوات" نامی گاؤں دونوں دریاؤں کا سنگم ہے۔ ہیڈ مرالہ کا علاقہ دریاؤں کا سنگم ایک دلفریب منظر پیش کرتا ہے، جہاں سبزہ، بہتے دریا، دور تک پھیلی ہریالی، اور طلوع و غروب آفتاب کا منظر دل کو بھاتا ہے۔ یہ جگہ "ووڈز ورتھ" کی شاعری کی مانند افسانوی ہے۔ میں نے کئی بار یہاں کا سفر کیا اور ہر بار یہ جگہ مجھے پہلے سے زیادہ دلکش محسوس ہوئی۔ افسوس کہ ہر بار میرے ساتھ صرف ڈرائیور ہی ہوتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی وزیراعظم کیئراسٹارمر کے استعفے کی قیاس آرائیاں تیز
ہیڈ مرالہ کی خوبصورتی
ہیڈ مرالہ کے علاقے میں چھوٹے بڑے ٹیلوں کے درمیان سے بہتا دریائے چناب سورج کی روشنی میں چمکتا نظر آتا ہے۔ نئے تعمیر شدہ پل نے سیالکوٹ اور گجرات کا درمیانی فاصلہ کم کر دیا ہے۔ دریا کنارے ریت کا ساحل اور کہیں کہیں درخت، یہ سب دل موہ لینے والے مناظر ہیں۔ جلاپور جٹاں سے اعوان شریف جانے والا راستہ اور اس جنکشن سے ہیڈ مرالہ جانے والی سڑک دونوں قدرتی مناظر سے بھری ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس؛ علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی کا آغاز
نیا انتظامی ڈویژن
اب تو گوجرانوالہ ڈویثرن سے نیا گجرات ڈویثرن قائم کیا جا چکا ہے، جس میں چار اضلاع شامل ہیں: گجرات، منڈی بہاؤالدین، وزیر آباد (یہ بھی نیا ضلع ہے)، اور حافظ آباد۔ کمشنر کی پوسٹ خالی ہونے کی وجہ سے کام کچھ سست تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران عقلمندی سے کام لے اور کسی غلط فہمی سے گریز کرے: سعودی عرب
یادیں اور ملاقاتیں
میری اچھی یاد اللہ سیکرٹری بلدیات پنجاب اخلاق احمد تارڑ سے تھی، جو حافظ آباد کے گاؤں "ونکی تارڑ" کے رہنے والے ہیں۔ میں نے ان کے والد حمید احمد تارڑ سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔ ڈرائیور عتیق (جو انہی کے گاؤں کا رہائشی بھی تھا) میرے ساتھ چلا آیا۔ میں "میاں جی" سے ملا، جو علاقے کے تگڑے زمیندار اور پرانے دور کے گورنمنٹ کالج لاہور کے گریجویٹ تھے۔ ان کی مہمان نوازی اور چائے نے مجھے خوش کر دیا۔
نئے کمشنر کی آمد
نئے کمشنر شمائیل احمد خواجہ کو چارج لئے چند دن گزر چکے تھے۔ ان کی خواہش پر میں نے انہیں اپنے کام اور ذمہ داریوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ میں نے انہیں بتایا کہ میری پوسٹنگ بھی حال ہی میں ہوئی ہے۔ بریفنگ کے دوران جب انہوں نے سوالات پوچھے تو میں نے ان کے سوالات کے مطابق اردو اور انگریزی میں جواب دیا۔ ایک گھنٹے بعد بریفنگ ختم ہوئی تو مجھے کمشنر مطمئن نظر آئے۔
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








