تمام اضلاع میں سڑکیں کھول دی گئی ہیں، کے پی حکومت کی رپورٹ پشاور ہائیکورٹ میں پیش
پشاور ہائیکورٹ کا حکم
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر بند سڑکیں کھولنے سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی۔
یہ بھی پڑھیں: پوری قوم دہشتگردی کے خاتمے کیلئے متحد ہے،وزیر اعلیٰ کا خیبر پختونخوا میں شہید ہونیوالے 6 جوانوں کوخراج عقیدت
عدالت میں سماعت
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق سڑکوں کی بندش کے خلاف درخواست پر سماعت پشاور ہائیکورٹ میں ہوئی جس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور پولیس حکام عدالت میں پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: عدلیہ کی آزادی، شہری حقوق اور عوام کی سلامتی خطرے میں ہے: ہیومن رائٹس کمیشن نے خبردار کر دیا
سڑکیں کھولنے کی رپورٹ
صوبائی حکومت نے سڑکیں کھولنے سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی جبکہ ایڈووکیٹ جنرل پختونخوا نے بتایا کہ ہائیکورٹ کے حکم پر آئی جی نے سڑکیں کھولنے کیلئے احکامات جاری کیے، پولیس کو حکم دیا کہ قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: میرے والد اور میری والدہ کی بیماری کا مذاق بنایا گیا: مریم نواز
ایڈووکیٹ جنرل کا مؤقف
ایڈووکیٹ جنرل نے پشاور ہائیکورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ اب تمام اضلاع میں سڑکیں کھول دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نازیبا ویڈیوز کس نے وائرل کی تھیں؟ اداکارہ و ماڈل متھیرا نے انکشاف کردیا
درخواست گزار کا اعتراض
دوسری جانب وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ سڑک کی بندش سے ایک خاتون کی جان گئی، اس کا مقدمہ درج کرایا جائے، جس پر عدالت نے کہا ہمارے سامنے ایسی کوئی شکایت نہیں آئی، آ جائے تو احکامات دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جھگڑے بڑھتے جارہے ہیں،شیر افضل مروت نے سلمان اکرم راجہ کے حوالے سے بڑا مطالبہ کر دیا
عدالت کے ریمارکس
جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ پشاور میں ٹریفک نظام بہت خراب ہے، کبھی وکلا، کبھی تاجر تو کبھی کوئی اور خیبر روڈ بند کرتے ہیں، جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ ٹریفک ماسٹر پلان بن رہا ہے، سیف سٹی پراجیکٹ پر کام جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لنڈ گینگ کے سربراہ کو شاہد لنڈ کو کیسے قتل کروایا گیا؟ نجی ٹی وی کے سنسنی خیز انکشافات
قانون کی عملداری
فاضل جج کا کہنا تھا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سزائیں دیں تب لوگ قانون پر عمل درآمد کریں گے۔
درخواست کا فیصلہ
پشاور ہائیکورٹ نے رپورٹ جمع ہونے پر سڑکوں کی بندش سے متعلق درخواست نمٹا دی.








