نیویارک میں واقع تاریخی روز ویلٹ ہوٹل کی تجدید اور ترقی کے لیے پاکستان اور امریکا نے باضابطہ تعاون شروع کر دیا
پاکستان اور امریکا کا تعاون
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نیویارک میں واقع تاریخی روز ویلٹ ہوٹل کی تجدید اور ترقی کے لیے پاکستان اور امریکا نے باضابطہ تعاون شروع کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی ملاقات، امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والوں سے سختی سے نمٹنے پر اتفاق
مفاہمتی یادداشت پر دستخط
وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔پاکستان کی جانب سے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب اورامریکا کی جانب سے ایڈمنسٹریٹر ایڈورڈ سی فورسٹ نے اس موقع پردستخط کیے ، اس موقع پروزیراعظم محمد شہبازشریف اورامریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹریٹجک کمیونیکیشن فورم 2025: پاکستانی سفارتی مندوبین نے چینی الیکٹرک گاڑیاں کی آزمائشی ڈرائیونگ کی، دنیا کے لیے ’’متاثر کن تحفہ‘‘ قرار دیدیا
بحالی کا جامع فریم ورک
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ روز ویلٹ ہوٹل کی بحالی اورترقی کے لیے ایک جامع فریم ورک ترتیب دیا گیا ہے، جس کے تحت ہوٹل کے آپریشن، تجدید اور سرمایہ کاری کے امور میں مشترکہ تعاون ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: یکطرفہ اور بالادستی کو عوامی تائید حاصل نہیں ہوتی ، چینی صدر
نئی اقتصادی راہیں
وزارت خزانہ نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف تاریخی ہوٹل کی دوبارہ زندگی بخشے گا بلکہ پاک-امریکا اقتصادی تعلقات میں بھی نئی پیشرفت کا سبب بنے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سپیشل برانچ کو علیحدہ یونٹ بنانے کی منظوری، تمام وسائل فراہم کریں گے: سہیل آفریدی
ثقافتی اہمیت
یاد رہے کہ روز ویلٹ ہوٹل تاریخی اور ثقافتی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی بحالی سے نہ صرف نیویارک میں سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ پاکستان اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعلقات کو بھی مضبوطی ملے گی۔
مشترکہ ترقی کے مواقع
منصوبے کے ذریعے دونوں ممالک سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور انتظامی تعاون کے ذریعے مشترکہ ترقی کو فروغ دیں گے.
روزویلٹ ہوٹل کی بحالی کیلئے پاکستان اور امریکا کا باضابطہ تعاون شروع،وزارت خزانہ
روز ویلیٹ ہوٹل منصوبے پر پاکستان اور امریکا کے مفاہمتی یادداشت پر دستخط،اعلامیہ
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب اورامریکا کی طرف سے ایڈمنسٹریٹر ایڈورڈ سی فورسٹ نے دستخط کیے
وزیراعظم شہبازشریف اور…— Muhammad Asim Naseer (@AsimNaseer81) February 19, 2026








