ایران کے خلاف محدود فوجی حملے پر غور کر رہا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ کا ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر غور
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ بھی پڑھیں: چورنڈ شریف میں معراج النبی ﷺ کے سلسلہ میں گرینڈ محفل حمد و نعت کی تیاریاں مکمل، عمرہ ٹکٹ بھی بذریعہ قرعہ اندازی ملے گا
ٹرمپ کے بیان کی تفصیلات
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ٹرمپ سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ ایران پر محدود پیمانے پر حملہ کرنے کا سوچ رہے ہیں، تو ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ 'میرے خیال میں یہ بتا سکتا ہوں کہ میں اس بارے میں غور کررہا ہوں'۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی تیز رفتاری اور کم خرچ کی بناء پر ریل گاڑی کا سفر فوراً ہی بہت مقبول ہو گیا، اس وقت کراچی سے کوٹری تک کا رعایتی کرایہ محض 2 آنے رکھا گیا۔
اہم خبریں: وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ
اس سے قبل امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی صدر ایران کے خلاف محدود فوجی حملے پر غور کر رہے ہیں۔ اس حملے میں ایرانی فوجی یا سرکاری مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
حملے کے مقاصد
امریکی اخبار کے مطابق محدود حملے پر غور کا مقصد ایران کو جوہری معاہدے پر مجبور کرنا ہے۔ اگر ایران معاہدے کو قبول نہ کرے تو حملے کو وسیع جنگ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔








