اس میں کیا حرج ہے کہ افغانستان سامنے آکر کہے پاکستان میں دہشتگردی کرنے والے مجرم ہیں: طلال چوہدری
دہشتگردی کی ایکسپورٹ
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان سے بہت عرصے سے دہشتگردی ایکسپورٹ ہو رہی ہے، اپنے لوگوں کی حفاظت کیلئے کارروائی کر رہے ہیں۔ اس میں کیا حرج ہے کہ افغانستان سامنے آئے کر کہے پاکستان میں دہشتگردی کرنے والے مجرم ہیں۔پاکستان ذمہ دار ریاست ہے، ہمیشہ کوشش کی کہ ہمسائیوں سے بہتر تعلقات رکھے۔
یہ بھی پڑھیں: تباہ کن گرمی بے سبب تو نہیں
پاکستان کی کارروائیاں
پروگرام ’’نیا پاکستان‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان اپنے لوگوں کے جان و مال کی تحفظ کے لئے ہر طرح کی کارروائی کر رہا ہے، کارروائیاں پاکستان کے اندر بھی جاری ہیں۔ 70 ہزار کے قریب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے۔ کارروائیوں میں مختلف قسم کے لوگ گرفتار ہوئے، دہشتگرد ہلاک ہوئے، یہ کارروائی اسی تناظر میں کی گئی، 3 مختلف مقامات اور 7 جگہوں پر کی گئی۔ اس میں کیا حرج ہے کہ افغانستان سامنے آکر کہے پاکستان میں دہشتگردی کرنے والے مجرم ہیں۔ پاکستان کا افغانستان سے یہی مطالبہ رہا جس میں وہ ناکام رہے، جس کی وجہ سے پاکستان کو دوسرے آپشن استعمال کرنے پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنے حصے کی بہتری اگر سارے ہی سرکاری ملازمین کی سوچ بن جائے تو میں یقین سے کہتا ہوں معاشرے میں بڑی خوشگوار تبدیلی کا باعث ہو جائے
دہشتگردی کے شواہد
’’جنگ‘‘ کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ کا کہنا تھا کہ ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق 70 کے قریب دہشتگرد مارے گئے ہیں، بہت سارے شواہد موجود ہیں، زیادہ تر ہلاک دہشتگردوں کی شناخت پاکستان کی تھی۔ افغانستان اور اس کی عبوری حکومت اپنا فرض نبھانا نہیں چاہتی، دوحہ معاہدے میں افغانستان نے پوری دنیا کو باور کروایا تھا کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف بھی دہشتگردی کے لئے استعمال نہیں ہوگی، لیکن افغانستان دہشتگردی روکنے میں ناکام رہا۔
عالمی تصدیق
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ افغانستان سے یہ شکایت اب صرف پاکستان کی نہیں ہے، مختلف ممالک بھی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ بھی تصدیق کرچکا ہے، اڑھائی درجن کے قریب گروپس افغانستان سے آپریٹ کر رہے ہیں۔ سفارتی کوششوں میں پاکستان نے بہت کوشش کی، ملٹری ٹو ملٹری بھی بہت ساری بات چیت ہوئی۔ سعودی عرب نے دوحہ میں ترکیہ میں بات چیت کی لیکن افغانستان ہمیشہ اپنا فرض نبھانے میں ہچکچاتا رہا۔








