سپریم کورٹ؛دہرے قتل کیس کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے دہرے قتل کیس کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی۔ مجرم کی عمر 76 سال ہے، جس کے باعث ضعیف العمر ہونے کی بنیاد پر اسے سزا میں رعایت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف موسیقار طافو خان طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے
قتل کا واقعہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، سپریم کورٹ نے کہا کہ قتل کا واقعہ پہلے سے طے شدہ منصوبے کا نتیجہ نہیں تھا۔ خونی تصادم کا آغاز گلی سے مویشی گزارنے کے معمولی تنازع پر ہوا، جس کے بعد مجرم کی اہلیہ اور مقتولہ کے درمیان ہاتھا پائی جھگڑے کی بنیاد بنی۔
یہ بھی پڑھیں: کیا سیز فائر مستقل ہے یا بھارت اس کی خلاف ورزی کرے گا؟ سینئر صحافی کامران شاہد کا سوال لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کیا جواب تھا؟ جانیے
استغاثہ کی ناکامی
سپریم کورٹ نے کہا کہ استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ ملزم نے بھینس چوری کے مقدمے کی رنجش کے تحت قتل کیا۔ تاہم، استغاثہ بھینس چوری کی مبینہ دشمنی کا کوئی دستاویزی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ اس کے علاوہ، جائے وقوعہ سے خول برآمد نہ ہونے پر آلہ قتل کی برآمدگی غیر اہم قرار دی گئی۔
ماضی کے حقائق
یاد رہے کہ قتل کا یہ واقعہ مارچ 2015 میں سرگودھا کے علاقے ڈیرہ سودھی مری میں پیش آیا۔ ملزم کی فائرنگ سے دو خواتین جاں بحق اور ایک شخص زخمی ہوا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے 2019 میں ملزم کو دوبار سزائے موت سنائی تھی، جب کہ لاہور ہائی کورٹ نے نومبر 2024 میں سزائے موت برقرار رکھی تھی۔








