سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھارت نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات موخر کر دیئے
تجارتی مذاکرات مؤخر
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھارت نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات مؤخر کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا انجکشن جیل میں لگے گا یا ہسپتال میں۔۔۔؟بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے معائنے سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آ گئی
امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت نے واشنگٹن بھیجے جانے والے اپنے تجارتی وفد کا دورہ اس وقت مؤخر کر دیا جب امریکی سپریم کورٹ نے سابق صدر کی جانب سے عائد کردہ محصولات کو مسترد کر دیا، جس کے بعد نئی تجارتی پالیسی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 189 شہروں کی تعمیر و ترقی کی منظوری،ہر شہر کو جمالیاتی طور پر بہترین نظر آنا چاہیے: مریم نواز
مشاورت اور نئی تاریخ
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا اور تاحال نئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔ ادھر صدر ٹرمپ نے عدالت کے فیصلے کے بعد تمام ممالک سے درآمدات پر 15 فیصد عارضی محصول عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ریاست کینٹکی میں ایئرپورٹ کے قریب طیارہ گر کر تباہ، 7 افراد ہلاک
مجوزہ عبوری معاہدہ
مجوزہ عبوری معاہدے کے تحت امریکا کچھ بھارتی برآمدات پر محصولات کم کرنے پر آمادہ تھا جبکہ بھارت آئندہ پانچ برسوں میں توانائی، طیاروں، قیمتی دھاتوں اور ٹیکنالوجی مصنوعات سمیت بڑی مالیت کی امریکی اشیا خریدنے پر تیار تھا۔
بھارتی اپوزیشن کا ردعمل
بھارتی اپوزیشن جماعت نے بھی عدالتی فیصلے کے بعد معاہدے کو مؤخر کر کے ازسرنو بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔








