سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھارت نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات موخر کر دیئے
تجارتی مذاکرات مؤخر
نیویارک (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بھارت نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات مؤخر کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: طالبہ نے کلاس روم میں شادی کی پیشکش کرنے پر پروفیسر کی ٹھکائی کر دی
امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بھارت نے واشنگٹن بھیجے جانے والے اپنے تجارتی وفد کا دورہ اس وقت مؤخر کر دیا جب امریکی سپریم کورٹ نے سابق صدر کی جانب سے عائد کردہ محصولات کو مسترد کر دیا، جس کے بعد نئی تجارتی پالیسی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: اس سال کے اختتام تک سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر آئیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
مشاورت اور نئی تاریخ
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے حکام کے درمیان مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا اور تاحال نئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔ ادھر صدر ٹرمپ نے عدالت کے فیصلے کے بعد تمام ممالک سے درآمدات پر 15 فیصد عارضی محصول عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے مذاکراتی عمل متاثر ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے امریکی عہدیدار کے میزائل صلاحیتوں کے ممکنہ خطرہ سے متعلق دعوے کو سختی سے رد کیا
مجوزہ عبوری معاہدہ
مجوزہ عبوری معاہدے کے تحت امریکا کچھ بھارتی برآمدات پر محصولات کم کرنے پر آمادہ تھا جبکہ بھارت آئندہ پانچ برسوں میں توانائی، طیاروں، قیمتی دھاتوں اور ٹیکنالوجی مصنوعات سمیت بڑی مالیت کی امریکی اشیا خریدنے پر تیار تھا۔
بھارتی اپوزیشن کا ردعمل
بھارتی اپوزیشن جماعت نے بھی عدالتی فیصلے کے بعد معاہدے کو مؤخر کر کے ازسرنو بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔








